Tuesday, 27 October 2026
بریکنگ نیوز
سائنس و ٹیکنالوجی

ایلون مسک کی اسپیس ایکس نے اے آئی چپس کے لیے 40 ارب ڈالر کا قرضہ حاصل کر لیا

فالکن 9 راکٹ کی لانچ (فائل تصویر)

آسٹن — مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں اب پیسے کی مقدار ہی سب سے بڑی خبر بن گئی ہے۔ ایلون مسک نے تصدیق کی ہے کہ ان کی کمپنی اسپیس ایکس نے گرافکس پروسیسنگ یونٹس (جی پی یوز) کی خریداری کے لیے 40 ارب ڈالر کا قرضہ حاصل کر لیا ہے۔ یہ رقم این ویڈیا کی اے آئی چپس کے لیے ہے، جن کی فراہمی 2027 کی پہلی اور دوسری سہ ماہی میں متوقع ہے۔

مسک نے ایکس پر لکھا کہ یہ بنیادی طور پر قابل واپسی قرضہ ہے، یعنی کمپنی اسے وقت سے پہلے بھی ادا کر سکتی ہے، اور اس سہ ماہی پر اس کا کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔ اس سے پہلے روئٹرز نے اکتوبر کے شروع میں خبر دی تھی کہ اسپیس ایکس بینکوں اور اثاثہ منتظمین سے 40 ارب ڈالر اکٹھا کرنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ اب مسک کی تصدیق نے ان باتوں کو حتمی شکل دے دی ہے، اگرچہ قرضے کی قیمت اور شرائط کی تفصیل ابھی واضح نہیں۔

مسک کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس یہ قرضہ اس لیے حاصل کر سکی کیونکہ اس کی کریڈٹ ریٹنگ انویسٹمنٹ گریڈ ہے اور اسے اسٹار لنک انٹرنیٹ سروس اور راکٹ لانچ کے کاروبار سے مستحکم آمدنی ملتی ہے۔ یہی نکتہ اس خبر کا اصل پیغام ہے۔ مسک نے خبردار کیا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں قرضوں کی منڈی نے ان کمپنیوں کے لیے دروازے تقریباً بند کر دیے ہیں جن کی آمدنی صرف اے آئی ڈیٹا سینٹرز پر منحصر ہے۔ ان کے مطابق 200 سے زیادہ “نیو کلاؤڈ” کمپنیاں — جو صرف جی پی یو کرائے پر دیتی ہیں — اب استحکام اور ناکامی کے دور سے گزریں گی، اور صرف چند ہی بچ پائیں گی۔

اعداد اس دوڑ کی شدت بتاتے ہیں۔ اسپیس ایکس کی آمدنی 30 ستمبر کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں سال بہ سال 161 فیصد بڑھ کر 14.58 ارب ڈالر ہو گئی، جبکہ سرمائے کے اخراجات تقریباً تین گنا بڑھ کر 19.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ یعنی کمپنی کما بھی بہت رہی ہے اور خرچ بھی بے تحاشا کر رہی ہے۔ اسی تناظر میں اسپیس ایکس اور ٹیسلا کا مشترکہ منصوبہ ٹیرافیب بھی ہے، جو آسٹن میں چپ سازی کرے گا — پہلی تجرباتی چپ مئی یا جون 2027 میں اور بڑے پیمانے پر پیداوار 2028 کی تیسری سہ ماہی میں متوقع ہے۔

یہ خبر اے آئی کی دنیا میں ایک نئی تقسیم کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایک طرف وہ کمپنیاں ہیں جن کے پاس اپنی آمدنی، کریڈٹ ریٹنگ اور بنیادی ڈھانچہ ہے — وہ 40 ارب ڈالر بھی اٹھا سکتی ہیں۔ دوسری طرف وہ چھوٹی کمپنیاں ہیں جن کا پورا کاروبار کرائے کے جی پی یوز پر کھڑا ہے — ان کے لیے قرض مہنگا اور مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر مسک کی پیش گوئی درست نکلی تو اگلے دو سال میں اے آئی انفراسٹرکچر کی دنیا چند بڑے کھلاڑیوں تک سکڑ جائے گی، اور اس کا اثر چپ کی قیمتوں، کلاؤڈ کرایوں اور چھوٹے اسٹارٹ اپس سب پر پڑے گا۔

پاکستان سمیت ترقی پذیر ملکوں کے لیے اس کا پیغام دوہرا ہے۔ ایک طرف اے آئی کی طاقت چند ہاتھوں میں مرکوز ہو رہی ہے، جس سے ٹیکنالوجی تک رسائی کی قیمت بڑھ سکتی ہے۔ دوسری طرف، جو ملک اپنی ڈیجیٹل بنیاد اور مقامی صلاحیت بنائے گا، وہ اس دوڑ میں محض خریدار نہیں رہے گا۔ 40 ارب ڈالر کا یہ قرضہ محض ایک کمپنی کی خبر نہیں — یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اے آئی کا مستقبل اب اسی کے ہاتھ میں ہوگا جس کے پاس چپس خریدنے کی طاقت ہے۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹر کی طرح سوچنے والی اے آئی: مائیکروسافٹ کا نیا نظام

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *