میڈرڈ — پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سوئس دوا ساز کمپنی روش کی تجرباتی دوا ڈیواراسیب نے فیز تھری ٹرائل میں موت کا خطرہ 44 فیصد کم کر دیا ہے۔ یہ نتائج 25 اکتوبر کو یورپین سوسائٹی فار میڈیکل آنکولوجی (ایسمو) کانگریس میں پیش کیے گئے اور اسی وقت نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع بھی ہوئے۔
یہ ٹرائل ان مریضوں پر کیا گیا جن کے پھیپھڑوں کا نان اسمال سیل کینسر پہلے علاج کے باوجود بڑھ گیا تھا، اور جن کے ٹیومر میں کے آر اے ایس جی 12 سی نامی جینیاتی تبدیلی موجود تھی۔ اس تبدیلی کو طویل عرصے تک “ناقابل علاج” سمجھا جاتا رہا، کیونکہ اس پروٹین کو نشانہ بنانا انتہائی مشکل تھا۔ اب نئی نسل کے روکنے والے (انہیبیٹرز) اس رکاوٹ کو توڑ رہے ہیں۔
کراسینڈو 1 نامی اس ٹرائل میں 338 مریض شامل تھے۔ ایک گروپ کو ڈیواراسیب دی گئی، دوسرے کو پہلے سے منظور شدہ دوائیں سوٹوراسیب یا اڈاگراسیب۔ نتائج واضح تھے: ڈیواراسیب والے مریضوں کی اوسط مجموعی بقا تقریباً 18 ماہ رہی، جبکہ کنٹرول گروپ میں یہ 12 ماہ تھی۔ بیماری کے بڑھنے یا موت کا خطرہ 42 فیصد کم ہوا — بغیر بڑھوتری کی اوسط بقا 9.8 ماہ بمقابلہ 5.7 ماہ رہی۔ علاج کا جواب دینے والوں کی شرح بھی تقریباً دگنی رہی: 58 فیصد بمقابلہ 32 فیصد۔
حفاظت کے لحاظ سے بھی نتائج حوصلہ افزا رہے۔ کوئی نئی حفاظتی پریشانی سامنے نہیں آئی، اور مضر اثرات زیادہ تر ہلکے درجے کے اور قابل انتظام تھے۔ علاج سے متعلق مضر اثرات کی وجہ سے علاج چھوڑنے والوں کی شرح ڈیواراسیب گروپ میں 4.8 فیصد رہی، جبکہ کنٹرول گروپ میں یہ 11.7 فیصد تھی — یعنی نئی دوا نہ صرف زیادہ مؤثر بلکہ برداشت میں بھی بہتر ثابت ہوئی۔
روش کے چیف میڈیکل آفیسر لیوی گیروے نے کہا کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیواراسیب پہلے علاج شدہ کے آر اے ایس جی 12 سی پھیپھڑوں کے کینسر کے مریضوں کے لیے علاج کا نیا معیار بن سکتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ علاج کو مریضوں تک پہنچانے کے لیے صحت کے حکام کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
یہاں ایک احتیاط ضروری ہے: ڈیواراسیب ابھی تجرباتی دوا ہے، منظور شدہ علاج نہیں۔ اس کے بازار میں آنے میں وقت لگے گا، اور ہر مریض پر اس کا اثر ایک جیسا نہیں ہوگا۔ لیکن جن مریضوں کے پاس پہلے علاج کے بعد آپشن ختم ہو جاتے تھے، ان کے لیے چھ ماہ کی اضافی اوسط بقا — اور وہ بھی بہتر برداشت کے ساتھ — کوئی چھوٹی بات نہیں۔ یہی وہ فرق ہے جو ایک ٹرائل کے اعداد کو مریضوں کی زندگیوں میں بدل دیتا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھیپھڑوں کا کینسر سب سے مہلک کینسروں میں سے ایک ہے، جس کی بڑی وجہ دیر سے تشخیص ہے۔ نئی دوائیں علاج کو بہتر بنا رہی ہیں، مگر اصل جنگ اب بھی جلد تشخیص، تمباکو نوشی سے بچاؤ اور علاج تک رسائی کی ہے۔ ڈیواراسیب کی کامیابی اس جنگ میں ایک نیا ہتھیار تو ہے، مگر مکمل حل نہیں۔
مزید پڑھیں: ای کولی کی ویکسین کا بڑا عالمی ٹرائل ناکام اور ڈاکٹر کی طرح سوچنے والی اے آئی: مائیکروسافٹ کا نیا نظام

قارئین کے تبصرے (0)