Wednesday, 21 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

راجن پور بس حادثہ: کراچی سے ڈیرہ غازی خان جانے والی کوچ الٹنے سے 10 افراد ہلاک، 44 زخمی

شاہراہ پر چلتی ہوئی ایک رنگ برنگی پاکستانی انٹرسٹی مسافر کوچ

بدھ 21 اکتوبر کی صبح صوبہ پنجاب کے ضلع راجن پور میں ایک المناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جب کراچی سے ڈیرہ غازی خان جانے والی ایک مسافر کوچ انڈس ہائی وے (N-55) پر روجھان تحصیل کے علاقے بنگلہ ہدایت کے قریب ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹ گئی۔ ریسکیو 1122 کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق حادثے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور 44 زخمی ہوئے ہیں۔

حادثہ صبح تقریباً پونے چھ بجے اس وقت پیش آیا جب کوچ کراچی سے ڈیرہ غازی خان کی طرف جا رہی تھی۔ عینی شاہدین اور ریسکیو حکام کے مطابق ڈرائیور تیز رفتار گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا، کوچ پہلے مرکزی ڈیوائیڈر سے ٹکرائی اور پھر الٹ کر شاہراہ پر ہی گر گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ درجنوں مسافر کوچ کے اندر پھنس گئے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں سات مرد، دو خواتین اور ایک بچی شامل ہے۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی ہیں۔ زخمیوں میں سے 38 کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال راجن پور منتقل کیا گیا، جبکہ چار شدید زخمیوں کو ڈیرہ غازی خان اور دو کو رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال بھیجا گیا ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی 10 ایمبولینسیں اور دو ریسکیو گاڑیاں راجن پور، جام پور اور روجھان سے موقع پر پہنچیں، اور 35 ریسکیو اہلکاروں نے امدادی کارروائی میں حصہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر راجن پور عمران رانجھا، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اور اسسٹنٹ کمشنر بھی موقع پر پہنچے اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کی۔ حادثے کے بعد ڈی ایچ کیو ہسپتال راجن پور اور قریبی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق حادثے کی وجہ تیز رفتاری بتائی جا رہی ہے، اور یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ طویل سفر کے دوران ڈرائیور کو نیند آ گئی ہو۔ کوچ کراچی سے نان اسٹاپ چل کر آ رہی تھی۔ ڈپٹی کمشنر عمران رانجھا کے مطابق حادثے کے بعد ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا، اور اس کے خلاف اور کوچ کے مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ پولیس نے الٹی ہوئی کوچ کو قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی اور حادثے کے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا۔ ان کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر راجن پور خود موقع پر ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔

یہ حادثہ ایک بار پھر انڈس ہائی وے کی خطرناک صورتحال کو اجاگر کرتا ہے۔ سنگل کیریج وے، بھاری ٹریفک اور حفاظتی رکاوٹوں کی کمی کے باعث یہ شاہراہ ماضی میں بھی متعدد مہلک حادثات کا سبب بن چکی ہے۔ ریسکیو 1122 کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب بھر میں روزانہ اوسطاً 1,352 ٹریفک حادثات رپورٹ ہوتے ہیں جن میں اوسطاً 14 افراد جاں بحق ہوتے ہیں۔ صرف ایک روز قبل ملتان کی بوسن روڈ پر بھی ایک تیز رفتار کار ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر حادثے کا شکار ہوئی تھی جس میں پانچ نوجوان جاں بحق ہوئے تھے۔ ماہرین کے مطابق طویل بین الصوبائی روٹس پر ڈرائیوروں کے کام کے اوقات اور رفتار پر مؤثر نگرانی کے بغیر ایسے حادثات کا سلسلہ رکنا مشکل ہے۔

مزید پڑھیں: آج کی تمام اہم خبروں کی لمحہ بہ لمحہ اپڈیٹس کے لیے لائیو اپڈیٹس: آج کی اہم خبریں ملاحظہ کریں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *