Wednesday, 21 October 2026
بریکنگ نیوز
کاروبار

آئی ایم ایف کی وارننگ: مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے پاکستان میں توانائی اور خوراک مہنگی ہو سکتی ہے

واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ہیڈ کوارٹر عمارت

ایک نظر میں

  • کون: آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ و وسطی ایشیا شعبے کے ڈائریکٹر جہاد اظہر — اسلام آباد میں دو روزہ ٹیکس اصلاحات ورکشاپ (20 تا 21 اکتوبر) سے خطاب
  • وارننگ: مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے توانائی اور خوراک کی قیمتوں، تجارتی سپلائی چین میں خلل اور عالمی قرضہ جات کی سختی کا خطرہ
  • مطالبہ: ٹیکس میں منصفانہ نظام — کم ٹیکس والے شعبوں کو دائرے میں لایا جائے، رعایتوں کو ختم کیا جائے
  • حکومت کا موقف: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب — “بوم اینڈ بسٹ کے چکر اب نہیں دہرائیں گے”، ترقی برآمدات کی قیادت میں ہوگی

کہانی

اسلام آباد میں وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے زیر اہتمام دو روزہ ورکشاپ “پاکستان میں جدید اور ترقی دوست ٹیکس نظام کے لیے اصلاحات” کے افتتاحی خطاب میں آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ و وسطی ایشیا شعبے کے ڈائریکٹر جہاد اظہر نے پاکستان کی ٹیکس پالیسی کو براہ راست نشانے پر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایک مضبوط، وسیع، منصفانہ اور پیشگوئی کے قابل ٹیکس نظام مالیاتی استحکام کی حمایت کر سکتا ہے، اور ان رکاوٹوں کو کم کر سکتا ہے جو سرمایہ کاری، پیداوار، ترقی اور باقاعدہ روزگار کی راہ میں کھڑی ہیں۔”

اظہر نے زور دیا کہ اصلاحات صرف اہداف کے حصول تک محدود نہیں رہنی چاہیں۔ “پاکستان کے لیے اگلا سنگِ میل اس استحکام کو مضبوط اور دیرپا ترقی میں بدلنا ہے،” انہوں نے کہا۔ چار بنیادی موضوعات — اعتبار، ترقی، انصاف اور نفاذ — کو ورکشاپ کا مرکز قرار دیا گیا۔

عام پاکستانی کے لیے خطرے کی گھنٹی

اظہر کا سب سے نمایاں حصہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے متعلق تھا۔ ان کے مطابق، “پاکستان کے لیے توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے، تجارت اور سپلائی چین میں خلل، بیرونی طلب میں کمی اور عالمی مالیاتی حالات میں اچانک سختی” کا خطرہ اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے — اور یہی خطرہ استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے بحالی جاری رکھنے کو ضروری بناتا ہے۔

یہ انتباہ ایسے وقت پر آیا ہے جب خلیج میں کشیدگی پہلے ہی تیل اور شپنگ کی قیمتوں پر اثر ڈال رہی ہے۔ پاکستان کی معیشت تیل کی درآمدات پر منحصر ہے، اور مہنگا تیل بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ کی لاگت بڑھا کر ہر گھر کے بجٹ کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔

تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کا سوال

آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ ٹیکس کا بوجھ منصفانہ ہونا چاہیے۔ “کم ٹیکس والے شعبوں کو دائرے میں لانا، رعایتوں کو ختم کرنا اور غیر متناسب بوجھ کم کرنا منصفانہ ٹیکس نظام کے اجزا ہیں،” اظہر نے کہا۔ اس موقف کا براہ راست تعلق اس شکایت سے ہے کہ پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ اور تنخواہوں سے ہونے والی آمدن پر ٹیکس زیادہ، جبکہ ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ جیسے شعبے اب بھی مناسب حصہ ادا نہیں کرتے۔

ورکشاپ میں چھ نشستیں رکھی گئیں: ٹیکس اور اقتصادی ترقی، پاکستان کے ٹیکس نظام کی جدید کاری، وفاق اور صوبوں میں متحد سیلز ٹیکس کا نظام، سادہ اور غیر جانبدار انکم ٹیکس، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد، اور مالیاتی وفاقیت و صوبائی ٹیکس وصولیاں۔

حکومت کا جواب

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ورکشاپ سے خطاب میں کہا کہ سوال صرف یہ نہیں کہ “استحکام سے ترقی کی طرف کیسے بڑھا جائے — اصل بات یہی ہے۔” ان کے مطابق ترقی صرف تیز نہیں، پائیدار ہونی چاہیے۔

“ماضی میں ہم نے یہ تجربات دیکھے ہیں جنہوں نے بوم اینڈ بسٹ کے چکر پیدا کیے۔ اور ایک بات یقینی ہے، ہم انہیں نہیں دہرائیں گے،” اورنگزیب نے کہا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً دو ہفتوں کی درآمدی کوریج سے بڑھ کر تین ماہ سے زائد ہو گئے ہیں، اور ترقی اب استعمال کی قیادت میں نہیں بلکہ برآمدات کی قیادت میں ہوگی۔

منگل کو ہی صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں جہاد اظہر کی قیادت میں آئی ایم ایف کے وفد سے ملاقات کی، جس میں وفد نے بتایا کہ پاکستان کی معیشت مالی سال 2026 میں 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، اصل شرح نمو 3.7 فیصد ہو گئی ہے، مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک گھٹا ہے اور مسلسل تیسرے سال پرائمری سرپلس ریکارڈ ہوا ہے۔

اس کا مطلب کیا ہے

نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے تازہ اعداد و شمار پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ آخری سہ ماہی میں صنعت 4.7 فیصد سکڑی ہے — یعنی ترقی کی گاڑی ابھی پوری طرح سڑک پر نہیں آئی۔ ایسے میں آئی ایم ایف کا دوہرا پیغام واضح ہے: ٹیکس اصلاحات میں دیر کی تو قرضے کی شرطیں سخت ہوتی رہیں گی، اور خلیجی کشیدگی سے آنے والی مہنگائی کے لیے بجٹ میں گنجائش پیدا کرنا پڑے گی۔

اصل سوال اب یہ نہیں کہ اصلاحات ہوں گی یا نہیں — ورکشاپ کی چھ نشستیں بتاتی ہیں کہ نقشہ تیار ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ تنخواہ دار طبقے کے کندھوں سے ہٹ کر ان شعبوں پر منتقل ہوگا جنہیں اب تک رعایت ملی ہے۔ آئی ایم ایف کی وارننگ کے بعد یہی وہ مقام ہے جہاں عام پاکستانی کو سب سے زیادہ دلچسپی لینی چاہیے: کیونکہ اصلاحات کی کامیابی یا ناکامی کا حساب اس کی جیب سے نکلے گا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *