جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں تازہ اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان منگل کو اسلام آباد میں اپنی جماعت کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے دو روزہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کیا، ساتھ ہی سیکیورٹی صورتحال پر پارلیمنٹ کے ان کیمرا اجلاس اور قبائلی اضلاع میں جرگے اور ورکرز کنونشن کے انعقاد کا اعلان بھی کیا۔
مولانا نے دراصل کیا کہا؟
مرکزی شوریٰ کے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ ان کی جماعت سیاسی مکالمے پر یقین رکھتی ہے اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیکیورٹی کے مسائل پر پارلیمنٹ کا ان کیمرا اجلاس بلایا جائے اور ارکان کو اعتماد میں لیا جائے۔ ساتھ ہی اعلان کیا کہ صوبے میں بنائی جا رہی عبوری کونسل میں جے یو آئی کا کوئی رکن شامل نہیں ہوگا — ان کے الفاظ میں حکومتوں کا آنا جانا آئین کے مطابق ہونا چاہیے، طاقت کے استعمال سے نہیں۔
گورنر راج پر ان کا موقف اتنا سخت کیوں ہے؟
فضل الرحمان کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج کے حق میں پیش کی جانے والی وجوہات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان اقدامات کا اصل مقصد دہشت گردی سے نمٹنا نہیں بلکہ صوبے کے معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ ان کا استدلال تھا کہ (ن) لیگ کی حکومت نے سابق فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا تھا، مگر اب وہی سابق قبائلی علاقے وفاق کے زیرِ انتظام لے جا رہی ہے — ان کی نظر میں یہ پیشرفت صوبے کی معدنی دولت پر نظر رکھنے کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر نے آئینی تقاضوں کی تکمیل کے بغیر دستخط کیے، اور ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو اور آصف علی زرداری کے دور میں نافذ کیے گئے گورنر راج کو یاد دلا کر پوچھا کہ کیا اس وقت بھی اسے قبول کیا گیا تھا؟
دہشت گردی کے خلاف آپریشنز پر تنقید
سیکیورٹی صورتحال پر مولانا کا لہجہ کافی تلخ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے اور ان کے مدارس بھی دباؤ میں ہیں، پھر حکومت سے سوال کیا: “اب جب آپ لوگوں کو مار چکے ہیں تو بات چیت کی کیا ضرورت باقی ہے؟” ان کا دعویٰ تھا کہ اگر فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ اس جنگ میں جے یو آئی کے 250 کارکن قربان ہوئے ہیں۔ انہوں نے بار بار کے فوجی آپریشنز کے نتائج پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ان کی جماعت پالیسی سازی کی ذمہ دار نہیں ہے — “پالیسیاں ہمارے ہاتھ میں نہیں، اس لیے ان کے نتائج کی ذمہ داری بھی ہم پر نہیں۔”
سابق فاٹا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہاں کے نوجوانوں کو سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں “بھڑکایا” گیا تھا، اور جے یو آئی نے مدارس اور مذہبی طبقے کو ریاست کے ساتھ کھڑا کیا۔ ان کا موقف تھا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ مسلح سیاست کو مسترد کیا ہے، مگر ریاستی فیصلہ سازوں کو اپنے فیصلوں کے نتائج بتانے ہوں گے۔
ان کیمرا اجلاس کی مانگ کا مطلب کیا ہے؟
مولانا کا مطالبہ ہے کہ اگر شکایات ہیں تو پارلیمنٹ کا ان کیمرا اجلاس بلایا جائے اور معاملات وہیں زیرِ بحث آئیں۔ یہ اس سے قبل بھی ان کا موقف رہا ہے — وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ پارلیمنٹ دہشت گردی سے نمٹنے کی پالیسی بنانے کا سب سے موزوں فورم ہے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت آیا ہے جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کر دی، سینیٹ بھی اس کی توثیق کر چکی ہے، اور پشاور ہائی کورٹ میں ایمرجنسی کے خلاف درخواستوں کی سماعت بھی شروع ہو چکی ہے۔
اس مطالبے کا سیاسی وزن کیا ہے؟
نئے انتخابات کا مطالبہ مولانا کی سیاسی حکمت عملی کا پرانا حصہ ہے، مگر موجودہ ماحول میں اس کی گونج پہلے سے مختلف ہے۔ جے یو آئی کے پاس خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مضبوط مذہبی ووٹ بینک ہے، اور قبائلی اضلاع میں جرگے اور ورکرز کنونشن کے اعلان سے وہ اپنا زمینی وجود دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف حکومت نے گورنر راج پر اپنا موقف واضح کر رکھا ہے اور وفاقی وزرا پہلے ہی مولانا کے مطالبات کو مسترد کرتے آئے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ انتخابات کا مطالبہ کتنا درست ہے — اصل سوال یہ ہے کہ کیا جے یو آئی کا یہ دباؤ حکومت کو ان کیمرا اجلاس بلانے پر مجبور کر سکتا ہے؟ یہی وہ نقطہ ہے جہاں مولانا کی سیاست ہمیشہ سب سے زیادہ خطرناک رہی ہے: وہ عوامی دباؤ کو پارلیمانی راستے میں ڈھالنے کے ماہر ہیں، اور یہ مطالبہ اسی حکمت عملی کی تازہ کڑی لگتا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)