Tuesday, 20 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

حوثی حملوں کے خوف سے “ڈاوس ان دی ڈیزرٹ” ملتوی — سعودی عرب کی سرمایہ کاری کانفرنس 2027 تک مؤخر

ریاض شہر کا منظر — سعودی عرب کی سرمایہ کاری کانفرنس کی میزبانی کرنے والا دارالحکومت

سعودی عرب نے اپنی سب سے بڑی بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس “فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو” (ایف آئی آئی) کو 2027 تک ملتوی کر دیا ہے۔ کانفرنس 26 سے 29 اکتوبر کو ریاض میں ہونی تھی، مگر یمن کے حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سیکیورٹی خدشات بڑھنے پر منتظمین نے اس دسویں ایڈیشن کو اگلے سال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فیصلے کا اعلان ایف آئی آئی انسٹی ٹیوٹ کی چیف ایگزیکٹو شہزادی ڈاکٹر مہا بنت مشاری آل سعود نے پیر کو کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا: “چونکہ یہ ہمارا دسواں تاریخی ایڈیشن ہے، ہم چاہتے ہیں کہ یہ اس مکمل پیمانے، غیر معمولی معیار اور ناقابل فراموش اثر کے ساتھ ہو جس کی ہماری برادری توقع رکھتی ہے اور جس کی وہ واقعی مستحق ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “شراکت داری اور مشترکہ وژن کی ایک دہائی ہمارے بہترین سے کم کسی چیز کی مستحق نہیں۔” نئی تاریخوں کا اعلان جلد کیا جائے گا، جبکہ موجودہ رجسٹریشن اور شراکت داری برقرار رہیں گی۔

ملتوی کی وجہ: ریاض پر حملے اور بند ایئرپورٹ

اس فیصلے کی اصل وجہ ریاض پر حوثیوں کے مسلسل حملے ہیں۔ سعودی دارالحکومت کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ 10 اکتوبر کے حملے کے بعد سے بند ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے، جسے ایک دہائی سے زائد عرصے میں مملکت پر مہلک ترین حملہ قرار دیا گیا ہے۔

اے ایف پی سے بات کرنے والے تین ذرائع نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ کانفرنس ملتوی ہونے والی ہے۔ ایک ذریعے نے کہا: “آج کل کون ریاض پرواز کرنے کا خطرہ مول لے گا؟” ہوابازی کے اعداد و شمار کے مطابق 8 اکتوبر کے بعد سے سعودی عرب سے اڑنے والی 45 فیصد سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، اور پی آئی اے سمیت کئی ایئرلائنز نے ریاض کی پروازیں معطل کر رکھی ہیں۔ پیر سے سرکاری دفاتر کے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔

“ڈاوس ان دی ڈیزرٹ” کیا ہے؟

فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کو “صحرا کا ڈاوس” کہا جاتا ہے۔ تقریباً ایک دہائی سے یہ سعودی عرب کی تیل پر انحصار ختم کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کرنے کی مہم کا مرکزی شوکیس ہے۔ 2017 میں اسی فورم پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 500 ارب ڈالر کے نیوم سٹی منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

اس سال کی کانفرنس میں عالمی مالیاتی دنیا کی بڑی شخصیات کی شرکت متوقع تھی، جن میں جے پی مورگن کے جیمی ڈائمن، گولڈمین سیکس کے ڈیوڈ سولومن، بلیک اسٹون کے اسٹیفن شوارزمین اور سٹی گروپ کی جین فریزر شامل تھیں۔

یہ کیوں اہم ہے؟

یہ فیصلہ اس جنگ کے معاشی قیمت کا اب تک کا واضح ترین اعتراف ہے۔ سعودی عرب کا “وژن 2030” منصوبہ غیر ملکی سرمایہ کاری پر ٹکا ہے، اور سرمایہ کار جنگ زدہ فضا میں پیسہ نہیں لگاتے۔ کانفرنس کا ملتوی ہونا محمد بن سلمان کی معاشی اصلاحات کی مہم کے لیے بڑا دھچکا ہے — اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ حوثی حملے اب صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں، سعودی معیشت کے دل پر بھی پڑ رہے ہیں۔

پاکستان کے لیے بھی یہ خبر براہ راست اہمیت رکھتی ہے۔ سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی روزگار کے لیے مقیم ہیں، اور ریاض کے ایئرپورٹ کی بندش سے ان کی آمد و رفت متاثر ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے، جو اب روزانہ کی بنیاد پر نظرثانی ہوتی ہیں۔

وسیع تر تناظر میں یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ یمن کی جنگ اب صرف سرحدی جھڑپ نہیں رہی — یہ سعودی عرب کی معیشت، عالمی توانائی منڈیوں اور علاقائی سفارت کاری سب کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ مصر کی پارلیمنٹ بھی سعودی عرب کی فوجی مدد کے ووٹ کو 26 اکتوبر تک ملتوی کر چکی ہے، جبکہ ریاض اپنے اتحادیوں کو دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *