Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

یوکرین پر یورپ کا متحدہ محاذ — ٹرمپ کی “رسواکن” تنقید کے بعد یورپی یونین زیلنسکی کے ساتھ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر دوطرفہ ملاقات میں

برسلز (16 اکتوبر) — یورپی یونین کے رہنماؤں نے جمعے کے روز برسلز میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کو واضح پیغام دیا: یورپ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ پیغام ایسے وقت میں آیا جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے روسی آئل ریفائنریوں پر حملوں کو ایک بار پھر سخت ترین تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یورپی کونسل کے دو روزہ سربراہی اجلاس کے دوسرے دن کا پہلا اجلاس مکمل طور پر یوکرین کی صورتحال کے لیے مختص تھا، جہاں یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فون ڈیر لائین نے زیلنسکی کا مشترکہ طور پر استقبال کیا۔ کوسٹا نے کہا کہ یورپ کی یوکرین کی حمایت “پہلے جیسی مضبوط” ہے۔ ان کے الفاظ میں: “یہ یوکرین کی حمایت واپس لینے کا وقت نہیں ہے۔ یہ روس کی پابندیاں نرم کرنے کا وقت نہیں ہے۔ یہ حمایت بڑھانے کا وقت ہے۔”

فون ڈیر لائین نے کہا کہ یورپی یونین اس وقت تک روس کی پابندیاں نہیں اٹھائے گی جب تک ماسکو جنگ روکنا نہ مان لے۔ مبصرین اسے ٹرمپ کے روس سے ڈیزل خریدنے کے معاہدے کا براہِ راست جواب قرار دے رہے ہیں — ایسا معاہدہ جس نے یوکرین کو ناراض اور یورپی اتحادیوں کو پریشان کر دیا ہے۔

زیلنسکی نے برسلز پہنچنے پر صحافیوں سے کہا کہ وہ جنگ کا جلد از جلد خاتمہ چاہتے ہیں، لیکن ماسکو کی طرف سے اس کی تیاری کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ اسی لیے، ان کے بقول، اب تیاری سردیوں کی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا: “ہمیں جنگ جلد از جلد ختم کرنی ہے۔ ہم روسی جانب سے جنگ ختم کرنے کی تیاری کے آثار نہیں دیکھ رہے، اسی لیے ہمیں سردیوں کی تیاری کرنی ہے۔”

انہوں نے جس “سرمائی پیکیج” کی بات کی، اس میں تین چیزیں شامل ہیں: توانائی، فضائی دفاع، اور مالی امداد۔ یوکرین کا سب سے بڑا ڈر یہی ہے کہ روس سردیوں میں اس کی توانائی کی بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنا کر پورے ملک کو تاریکی میں دھکیل دے گا۔ جمعرات کو روس کے ڈرون حملوں میں خارکیف میں تین افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ مختلف علاقوں میں لاکھوں لوگ بجلی سے محروم ہو گئے۔ خود زیلنسکی نے جمعرات کو بتایا تھا کہ وولن خطے میں تقریباً 15 ہزار افراد بجلی سے محروم تھے، اور دارالحکومت کیف اور اس کے گردونواح میں بھی جزوی بلیک آؤٹ تھا۔

دوسری جانب ٹرمپ کا لہجہ روز بروز سخت ہوتا جا رہا ہے۔ جمعرات کو نیوزمیکس کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے یوکرین کے روسی ریفائنریوں پر حملوں کو “رسواکن” قرار دیا اور الزام لگایا کہ زیلنسکی کی یہ پالیسی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا: “وہ صرف دنیا میں تیل کی قیمت بڑھا رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ رسواکن حرکت ہے۔” امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کو اگلے ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا سیاسی دباؤ بھی ہے۔

یوکرین نے یہ حملے اس وقت دوبارہ شروع کیے جب زیلنسکی نے جمعرات کو فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ وہ تین دن کی عارضی پابندی ختم کر رہے ہیں۔ ماسکو کے جنوب مشرق میں واقع ریازان ریفائنری پر حملے کے بعد روس نے پہلی بار عوامی طور پر کسی ریفائنری پر یوکرینی حملے کو تسلیم کیا اور ریاستی ٹی وی نے حملے کے بعد کی فوٹیج بھی دکھائی۔ ٹرمپ نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ یوکرین کے یہ حملے “بند ہونے چاہئیں”۔

برسلز میں یورپی رہنماؤں نے یوکرین کے مالی خلا پر بھی غور کیا۔ ایسٹونیا کے وزیراعظم کرسٹن مائیکل نے کہا کہ یورپی یونین کو شاید اگلے سال یوکرین کے بجٹ خلا کے لیے نیا قرضہ دینا پڑے گا: “پچھلی سردی پہلے ہی جہنم جیسی تھی، یہ بھی ایسی ہی ہوگی۔”

زیلنسکی کو شبہ ہے کہ واشنگٹن انٹیلیجنس شیئرنگ اور ہتھیاروں کی فراہمی پیچھے ہٹا سکتا ہے — حالیہ دنوں میں یوکرین کو روسی بیلسٹک میزائل حملوں سے متعلق مغربی انٹیلیجنس نہیں ملی، اور اسٹارلِنک مواصلات پر بھی حدود لگیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یورپ کی طرف بڑھے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ یوکرین جنگ اب صرف میدانِ جنگ کی جنگ نہیں رہی — یہ ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کے اندر بھی ٹوٹ پھوٹ دکھا رہی ہے۔ ایک طرف ٹرمپ روس سے ڈیزل خرید رہے ہیں اور زیلنسکی پر نئے انتخابات کا دباؤ ڈال رہے ہیں، دوسری طرف یورپ کہہ رہا ہے کہ پابندیاں نرم کرنے کا وقت نہیں۔ پاکستان کے لیے اس کا براہِ راست پیغام ایندھن کی قیمتوں میں ہے: عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں (برینٹ تقریباً 105 ڈالر فی بیرل) پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی ترامیم کو متاثر کرتی ہیں۔ یوکرین کے روسی ریفائنریوں پر حملے، اور اب ان پر ٹرمپ کا غصہ — یہ سب وہ عوامل ہیں جو آنے والے ہفتوں میں دنیا بھر کے پیٹرول پمپوں پر اثر ڈالیں گے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *