Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سائنس و ٹیکنالوجی

گوگل کا SynthID Detector لانچ: اب ہر شخص معلوم کر سکے گا کہ تصویر، ویڈیو یا آڈیو AI سے بنی ہے

ماؤنٹین ویو کیلیفورنیا میں گوگل اسٹور کی شیشے والی عمارت کا داخلی دروازہ

اہم نکات

گوگل نے سات اکتوبر کو SynthID Detector عوام کے لیے کھول دیا، یہ ویب سائٹ synthid.com پر دستیاب ہے۔ کوئی بھی شخص تصویر، ویڈیو یا آڈیو فائل اپ لوڈ کر کے چیک کر سکتا ہے کہ اس میں مصنوعی ذہانت کا پوشیدہ واٹرمارک موجود ہے یا نہیں۔ یہ ٹول گوگل کے ساتھ اوپن اے آئی، اینویڈیا اور کاکاؤ کے AI ماڈلز سے بنے مواد کو پہچانتا ہے۔

اب وہ دور ختم ہونے کے قریب ہے جب ہر حیران کن تصویر یا وائرل ویڈیو پر سوال اٹھتا تھا کہ یہ حقیقی ہے یا AI کی کارستانی۔ گوگل نے سات اکتوبر 2026 کو اپنا SynthID Detector ہر ایک کے لیے کھول دیا ہے۔ یہ ایک مفت ویب پورٹل ہے جہاں صارف فائل اپ لوڈ کرتا ہے اور ٹول سیکنڈوں میں بتا دیتا ہے کہ اس مواد میں SynthID نامی ڈیجیٹل واٹرمارک موجود ہے یا نہیں۔

SynthID کوئی نیا نام نہیں۔ گوگل نے اسے 2023 میں متعارف کروایا تھا۔ یہ ٹیکنالوجی AI سے بننے والے مواد میں ایسا پوشیدہ نشان لگاتی ہے جو انسانی آنکھ یا کان کو نظر نہیں آتا، مگر مخصوص سافٹ ویئر اسے پہچان لیتا ہے۔ گوگل کے مطابق اب تک ایک سو اسی ارب سے زائد تصاویر و ویڈیوز اور دو لاکھ چالیس ہزار سال کے برابر آڈیو مواد پر یہ واٹرمارک لگ چکا ہے۔

یہ ٹول گوگل کے Nano Banana، Veo اور Lyria ماڈلز اور Gemini، Flow اور Vids جیسی مصنوعات سے بنے مواد کو تو پہچانتا ہی ہے، ساتھ ہی اوپن اے آئی، اینویڈیا اور کاکاؤ کمپنیوں کے ماڈلز کا مواد بھی جانچ سکتا ہے۔ ایپل کی جانب سے بھی رواں سال یہ معیار اپنانے کی توقع ہے۔ گوگل کے مطابق اس کی Search، Gemini ایپ اور کروم براؤزر میں روزانہ دس لاکھ سے زائد تصدیقی درخواستیں آتی ہیں۔

ٹول کیسے کام کرتا ہے اور کیا حدود ہیں؟

استعمال کا طریقہ سیدھا سادہ ہے: ویب سائٹ پر جائیں، فائل اپ لوڈ کریں، اور ٹول بتائے گا کہ آیا اس میں SynthID واٹرمارک ہے۔ تصویروں کی متعدد اقسام بشمول JPG، PNG اور HEIC، ویڈیو کی MP4 اور MOV، اور آڈیو کی MP3 اور WAV فارمیٹس قبول کی جاتی ہیں۔

مگر ایک اہم وضاحت ضروری ہے: گوگل کی اپنی ویب سائٹ کہتی ہے کہ یہ “جنرل AI ڈیٹیکٹر نہیں” — یعنی یہ صرف وہی مواد پہچان سکتا ہے جس میں SynthID واٹرمارک ہو۔ اگر کوئی تصویر کسی ایسے ماڈل سے بنی ہے جس نے یہ معیار نہیں اپنایا، تو ٹول اسے پکڑ نہیں سکے گا۔ میک رومرز کے مطابق ٹول استعمال کے لیے سائن ان بھی درکار ہے، اور یہ مکمل طور پر AI سے بنے مواد اور AI سے ترمیم شدہ مواد میں فرق نہیں کر سکتا۔

گوگل کے اس اعلان کے بارے میں ڈیپ مائنڈ کے نائب صدر پشمت کوہلی نے بتایا کہ کمپنی ہر ایک کو یہ سہولت دے رہی ہے تاکہ کوئی بھی جانچ سکے کہ کوئی فائل گوگل یا اس کے شراکت داروں کے AI سے بنی ہے یا نہیں۔ اس سے پہلے یہ ٹول صرف صحافیوں، میڈیا کے ماہرین اور محققین کے لیے دستیاب تھا۔

غلط معلومات کے دور میں یہ قدم کیوں اہم ہے؟

پاکستان میں واٹس ایپ اور ٹک ٹاک پر جعلی تصاویر اور آڈیو کلپس کا پھیلاؤ اب روز کا معمول ہے — سیاسی رہنماؤں کی فرضی تقریریں، مشہور شخصیات کی من گھڑت ویڈیوز۔ SynthID Detector اس جنگ میں پہلا ایسا ہتھیار ہے جو عام آدمی کے ہاتھ میں ہے، مگر اس کی حد بھی اتنی ہی حقیقی ہے۔ جو ماڈل اس معیار سے باہر ہیں — اور ایسے ماڈلز کی تعداد بہت ہے — ان کی پیداوار اس ٹول سے چھوٹ جائے گی۔ مائیکروسافٹ اور میٹا کے اپنے الگ معیارات ہیں، جو اکثر اپنے ہی ماڈلز کے مواد کو پہچاننے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس لیے یہ ٹول مفید تو ہے، مگر فیصلہ کن نہیں؛ سوشل میڈیا صارف کو شک کی عادت اب بھی رکھنی ہوگی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *