Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

ٹرمپ کا پیوٹن سے بڑا ڈیزل معاہدہ: روس فوری طور پر تین لاکھ ٹن ڈیزل دے گا، پابندیاں عارضی طور پر ختم

تیل کی ریفائنری — ڈیزل اور ایندھن کی عالمی سپلائی کی علامتی تصویر

واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد ایک بڑے توانائی معاہدے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت روس امریکی اور عالمی منڈیوں کو لاکھوں ٹن ڈیزل فراہم کرے گا۔ ٹرمپ نے یہ اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کیا۔

ٹرمپ کے مطابق، روس فوری طور پر تین لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا، نومبر کے دوران مزید پانچ لاکھ ٹن، اور اس کے فوراً بعد دس لاکھ ٹن ڈیزل کی فراہمی ہوگی۔ اس کے علاوہ، روسی ریفائنریز کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے، مزید تیس لاکھ ٹن ڈیزل “قلیل مدت” میں پہنچایا جائے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پیوٹن کے ساتھ گفتگو “انتہائی کامیاب” رہی۔

یہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں خلل کے باعث امریکا میں ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ امریکی صدارتی انتخابات سے کچھ ہی ہفتے پہلے — تین نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے ہیں — بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سیاسی مشکلات کھڑی کر دی تھیں۔ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ امریکیوں، “خصوصاً ہمارے عظیم کسانوں، مویشی پالنے والوں اور ٹرک ڈرائیوروں” کے لیے کم قیمتیں ان کی “سب سے بڑی ترجیح” ہیں۔

معاہدے کے ساتھ امریکی محکمہ خزانہ نے روسی ڈیزل پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان بھی کیا۔ محکمے نے ایک عمومی اجازت نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت روسی ڈیزل کی خرید و فروخت اپریل 2027 تک پابندیوں کے خوف کے بغیر کی جا سکے گی۔ یہ اقدام امریکی پالیسی میں نمایاں الٹ پھیر ہے — 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے واشنگٹن برسوں سے روسی توانائی کو عالمی منڈیوں سے باہر رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

کریملن نے گفتگو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ روسی فریق نے امریکی اور عالمی منڈیوں کو تیل اور تیل کی مصنوعات کی فراہمی کے لیے اپنی تیاری کا اعادہ کیا۔ پیوٹن کے ایلچی کرل دمتریف نے ایکس پر لکھا کہ ڈیزل اور توانائی پر روس اور امریکا کا تعاون “دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا”۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: “میں پیوٹن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے ملک میں بہت زیادہ تیل آ رہا ہے، اور یہ ڈیزل ہے، جو ہمیں درکار ہے۔” ان کا دعویٰ تھا کہ تیل کی قیمتیں پہلے ہی “تیزی سے گر رہی ہیں”۔

تاہم یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے معاہدے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے اسے “کمزور فیصلہ” قرار دیا اور کہا کہ روسی تیل پر پابندیوں میں نرمی “ہمارے شراکت داروں کے شایانِ شان نہیں”۔ نیوز ویب سائٹ ایکسیاس کو انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا کہ یہ فیصلہ “پیوٹن کے لیے سالگرہ کے تحفے جیسا لگتا ہے”۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روس اس ڈیزل سے کمائے گئے پیسوں سے یوکرین کے خلاف جنگ کو طول دے گا۔

زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ یوکرین اپنے حصے کے اقدامات کے لیے تیار ہے — اگر روس یوکرینی توانائی کے ڈھانچے پر حملے بند کر دے تو یوکرین بھی روسی ریفائنریز پر حملے روک دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس ایسا معاہدہ کرانے کا اثر و رسوخ موجود ہے۔

یہ اعلان ایسے نازک وقت پر ہوا جب یوکرینی اور یورپی سفارت کار یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے نئے مذاکرات کے سلسلے میں میامی پہنچ رہے تھے۔

یہ خبر کیوں اہم ہے: یہ صرف امریکی پٹرول پمپوں کی قیمتوں کا معاملہ نہیں۔ تین نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ٹرمپ ایندھن کی قیمتوں کو اپنی انتخابی مہم کا مرکز بنائے ہوئے ہیں، اور روس کے ساتھ یہ معاہدہ ایک ایسے ملک کے لیے پابندیوں کے دروازے کھولتا ہے جسے دو ہزار بائیس کے بعد سے عالمی معیشت سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ یوکرین کے لیے یہ پیغام سخت ہے — مغرب کی جانب سے ماسکو پر دباؤ کی پالیسی اب خود واشنگٹن ہی نرم کر رہا ہے۔ اور پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جو توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، عالمی ڈیزل اور تیل کی قیمتوں میں ہر اتار چڑھاؤ براہِ راست معیشت پر اثر ڈالتا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *