Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

ریاض ایئرپورٹ پر اتوار کو ایک اور حملہ: ٹرمینل 4 پر پروجیکٹائل گرا، آگ لگ گئی — ایک ہفتے میں چوتھا حملہ

ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل کی عمارت کی فائل فوٹو

ریاض: اتوار کی شام سعودی اتحاد برائے یمن نے اعلان کیا کہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک “نامعلوم پروجیکٹائل” گرا ہے۔ اتحاد کے مطابق حملہ ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر ہوا، جس سے آگ بھڑک اٹھی اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ سعودی شہری ہوابازی کی جنرل اتھارٹی نے زخمیوں کی تعداد ابھی نہیں بتائی، صرف اتنا کہا کہ نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

یہ ایک ہفتے کے دوران اسی ایئرپورٹ پر چوتھا حملہ ہے — اور اس وقت ہوا جب ایئرپورٹ پہلے ہی ہفتے کے حملے کے بعد سے بند پڑا ہے۔

سعودی اتحاد نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے ایئرپورٹ کے قریب ہی ایک کروز میزائل کو راستے میں تباہ کر دیا۔ تفصیلات نہیں دی گئیں، لیکن بیان سے یہ واضح ہے کہ حملہ صرف ایک پروجیکٹائل تک محدود نہیں تھا۔

اتوار کی صبح حوثیوں نے ایکس پر اپنی تنبیہ کی تجدید کی تھی کہ سعودی عرب کے ہوائی اڈے اور فضائی حدود نشانے کی زد میں ہیں، اس لیے ایئرلائنز، عملہ اور مسافر انہیں استعمال نہ کریں۔ حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے لکھا: “ایئرپورٹس اور فضائی حدود ہماری افواج کے لیے کارروائی کا میدان ہیں — مکہ اور مدینہ کے ہوائی اڈے مستثنیٰ ہیں۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ تنبیہ کو سنجیدگی سے لیا جائے، اور ناکام روک تھام کی ذمہ داری سعودی عرب پر ہوگی۔

اتوار کی شام ہی حوثی فوجی ترجمان نے ٹیلی ویژن تقریر میں ہفتے کے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور دعویٰ کیا کہ ان کی افواج نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں دمام کے ایئرپورٹ اور سعودی تیل کمپنی آرامکو کی دو تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ سعودی عرب نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

جوابی کارروائی میں حوثی نیوز ایجنسی سبا نے بتایا کہ سعودی جنگی طیاروں نے اتوار کو یمن کے دارالحکومت صنعاء کے ایئرپورٹ پر بمباری کی۔ حوثی وزارت خارجہ نے ال مسيرہ ٹیلی ویژن پر جاری بیان میں کہا کہ یمن میں سعودی عرب کی مزید فوجی کارروائی پر اس سے بھی سخت ردعمل آئے گا: “جب تک سعودی دشمن اپنی جارحیت اور یمن میں مداخلت بند نہیں کرتا، اس سے بھی بدتر صورتحال آئے گی، ان شاء اللہ۔”

دوسری طرف یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے کہا کہ اس کی افواج نے تعز شہر کے قریب حوثیوں کے ٹھکانوں پر آٹھ فضائی حملے کیے ہیں اور اسٹریٹیجک باب المندب کی طرف پیش قدمی جاری ہے۔

ہفتے کے حملے کی ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ بھارتی سفارتخانے نے ایکس پر اعلان کیا کہ ہفتے کے حملے میں زخمی ہونے والا ایک بھارتی شہری جانبحق ہو گیا ہے، جس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 13 ہو گئی ہے۔ زخمیوں کی تعداد 300 سے زائد ہے۔ یہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی سرزمین پر سب سے مہلک حملہ ہے۔ اس ہفتے کے شروع میں دو مزید حملوں میں چار افراد ہلاک ہو چکے تھے، اور ایک حملے میں ٹرامک پر کھڑے سعودی مسافر طیارے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کو حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہوئے “خوفناک دہشت گرد حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔” ان کے دفتر کے بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی بے گناہ لوگوں کو نشانہ بناتی ہے اور اسے عزم کے ساتھ روکنا ہوگا۔

اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں امریکا کی ممکنہ شمولیت بھی زیر بحث ہے۔ ہفتے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ حملوں میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔ تاہم سعودی وزارت توانائی نے اعلان کیا کہ ریاض میں اتوار کو طے شدہ بین الاقوامی توانائی کانفرنس معمول کے مطابق ہو رہی ہے — حکومت کی طرف سے معمول کی زندگی دکھانے کی کوشش۔

یہ حملے اب ایک واضح معمول بنتے جا رہے ہیں۔ جمعرات، ہفتہ اور اب اتوار — تین دنوں میں چار حملے، بند ایئرپورٹ، منسوخ اور معطل پروازیں، اور سترہ سے زائد ہلاکتیں۔ سعودی عرب کے پاس دنیا کے جدید ترین فضائی دفاعی نظام ہیں، مگر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور خودکش ڈرون بار بار اندر گزر رہے ہیں۔ سوال اب یہ نہیں رہا کہ اگلا حملہ ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ سعودی عرب اور حوثی اس بڑھتی ہوئی جنگ کو کہاں روکیں گے۔ پاکستانیوں کے لیے بھی یہ خبر براہِ راست اہمیت رکھتی ہے: سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں اور پی آئی اے کی ریاض پروازیں پہلے ہی معطل ہیں۔ پیر کو شرم الشیخ میں غزہ امن اجلاس ہو رہا ہے، اور خطے کی نظریں اسی طرف ہیں کہ کیا سفارت کاری اس بڑھتی ہوئی آگ کو بجھا سکے گی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *