سعودی عرب پر جاری حملوں کا دائرہ خطرناک حد تک پھیلتا جا رہا ہے — اور اب یہ تیل کی سلطنت کے مشرقی صوبے کے دروازے تک پہنچ گیا ہے۔
سعودی قیادت میں بنے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ہفتے کی شب (پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح دو بجے کے قریب) سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ مشرقی سعودی عرب کے شہر دمام میں کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک پروجیکٹائل گرا ہے۔ المالکی کے مختصر پیغام میں صرف اتنا تھا کہ پروجیکٹائل ایئرپورٹ کے قریب گرا — نہ یہ بتایا کہ یہ کہاں سے فائر ہوا، نہ کسی نقصان یا زخمیوں کی تفصیل دی گئی، اور اب تک کسی گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
لیکن یہ تنہا واقعہ نہیں۔ اتوار کی صبح اتحاد نے مزید اعلان کیا کہ سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وسطی سعودی عرب کے علاقے الخرج میں حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل بھی فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔ یعنی ایک ہی رات میں سعودی فضائی دفاع کو دارالحکومت سے لے کر مشرقی صوبے تک کئی محاذوں پر متحرک ہونا پڑا۔
اور سمندر میں بھی صورتحال سلگ رہی ہے۔ برطانوی بحری تجارتی ادارے یو کے ایم ٹی او نے اتوار کی صبح اطلاع دی کہ آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر پر نامعلوم پروجیکٹائل لگا ہے اور جہاز پر آگ بھڑک اٹھی۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی کہا ہے کہ ایک سپر ٹینکر “غیر مجاز” راستے میں مائن سے ٹکرا کر دھماکے کا شکار ہوا۔ آبنائے ہرمز دنیا کے تیل کی ایک تہائی سے زیادہ گزرگاہ ہے — وہاں ہر دھماکہ سیدھا عالمی تیل کی قیمتوں کو چھوتا ہے۔
یہ سب اسی ہفتے کی مہلک پیش رفت کا تسلسل ہے۔ ہفتے کے روز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق کم از کم 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہریوں کے ساتھ ساتھ امریکا، بنگلہ دیش، فلسطین، مصر، اردن، شام اور سوڈان کے شہری بھی شامل ہیں، اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تصدیق کی کہ مرنے والوں میں ایک امریکی شہری بھی ہے۔ ہفتے کے حملے کے بعد ریاض ایئرپورٹ کے آپریشن معطل کر دیے گئے، آنے والی تمام پروازیں متبادل ایئرپورٹس کی طرف موڑ دی گئیں، اور قطر ایئرویز، اتحاد ایئرویز اور کویت ایئرویز نے ریاض کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دیں۔ امریکا، برطانیہ، جرمنی، اسپین اور کینیڈا کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو ریاض ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
حوثیوں کے سینئر عہدیدار محمد البخیتی نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ ہفتے کے حملے ان کی تنظیم نے کیے تھے۔ ان کے بقول یہ جوابی کارروائی تھی، کیونکہ سعودی اتحاد یمن کے اندر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا: “یہ دنیا کو یہ سمجھانے کے لیے ہے کہ یمن کے ہوائی اڈے، بندرگاہیں، ہسپتال اور بازار شہری تنصیبات ہیں جن پر حملہ نہیں ہونا چاہیے۔” حوثیوں کے میڈیا دفتر نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے “ریاض ایئرپورٹ بند کر دیا ہے”، جبکہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مطابق اس کی افواج نے محض 24 گھنٹوں میں ایک ہزار نو سو سے زائد اہداف پر کارروائی کی ہے۔
دمام کا کنگ فہد ایئرپورٹ اس لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ ریاض پر بار بار حملوں کے بعد یہی ایئرپورٹ متبادل راستے کے طور پر استعمال ہونے لگا تھا۔ اب اسی مشرقی صوبے کے قریب پروجیکٹائل اور ڈرون کا آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ حملہ آوروں کی پہنچ اور جرات دونوں بڑھ رہی ہیں — اور یہ وہی صوبہ ہے جہاں دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کا ہیڈکوارٹر واقع ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال براہِ راست اہمیت رکھتی ہے۔ سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی محنت کش کام کرتے ہیں — اور مشرقی صوبہ ان کی بڑی آبادی کا گھر ہے۔ رواں برس اگست میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ پہلے ہی پاکستان کو اس کشیدگی کا حصہ بنا چکا ہے۔ اگر حملے آرامکو جیسے حساس مقامات تک پھیلتے رہے تو عالمی تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھے گا، اور پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کی معیشت پر اس کا براہِ راست اثر پڑے گا۔
ابھی تک جو سب سے تشویشناک بات ہے وہ یہ کہ دمام کے واقعے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی اور سعودی حکام نے نقصان کی تفصیل نہیں بتائی۔ ایسا سکوت اکثر اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ حقائق ابتدائی اطلاعات سے زیادہ سنگین ہوتے ہیں۔ آنے والے چند گھنٹوں میں سعودی حکومت کا باضابطہ بیان اور امریکی ردعمل یہ طے کرے گا کہ خطہ ایک اور بڑے جوابی حملے کی طرف جا رہا ہے یا مذاکرات کا کوئی راستہ اب بھی باقی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)