ماسکو: بحیرہ اسود میں روس کے ساحلی شہر سوچی کے قریب منگل کی شام ایک تیل بردار جہاز سمندری ڈرونز کے حملے کا نشانہ بن گیا، جس کے بعد جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ روسی حکام کے مطابق جہاز پر سوار تمام 23 بھارتی ملاحوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوئی زخمی نہیں ہوا۔
اہم نکات
- حملے کا نشانہ بننے والا جہاز “آفرامیکس ریو” ہے — لائیبیریا کے پرچم والا خام تیل بردار ٹینکر
- روسی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق حملہ “سمندری ڈرونز” سے کیا گیا؛ خام تیل کھلے سمندر میں جلتا رہا
- عملے کے تمام 23 ارکان بھارتی شہری تھے، سب کو بچا لیا گیا
- آگ کی شدت کے باعث ابتدائی طور پر امدادی عملہ جہاز کے قریب نہ جا سکا
- سوچی اور سیریئس میں ساحل بند کر دیے گئے، فضا اور پانی کے معیار کی نگرانی جاری
- یوکرین اس جہاز کو فروری سے اپنی پابندیوں کی فہرست میں رکھے ہوئے ہے اور اسے روس کے “شیڈو فلیٹ” کا حصہ قرار دیتا ہے
روسی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق جہاز پر حملے کے بعد خام تیل بحیرہ اسود کے پانیوں میں کھل کر جلنے لگا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں سمندر میں نارنجی شعلے اور سوچی کے قریب آسمان کی طرف اٹھتا گھنا سیاہ دھواں دیکھا جا سکتا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ آگ کی شدت کم ہوتے ہی امدادی عملہ اسے بجھانے کی دوبارہ کوشش کرے گا۔
میڈیا رپورٹس میں اس حملے کو یوکرین کے سمندری ڈرونز کی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔ تاہم روسی وزارت ٹرانسپورٹ نے صرف “سمندری ڈرونز” کا ذکر کیا اور کسی فریق کا نام نہیں لیا، جبکہ یوکرین نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
جہاز ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق 2004 میں بنا یہ ٹینکر تقریباً 247 میٹر لمبا ہے اور ایک لاکھ ٹن سے زائد خام تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ٹریکنگ رپورٹس کے مطابق یہ جہاز روسی بندرگاہ نووروسیسک سے بھارت کے لیے خام تیل لے کر روانہ ہوا تھا، تاہم روسی حکام نے کارگو کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
بھارت کی سخت مذمت
نئی دہلی میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جے سوال نے ہفتہ وار بریفنگ میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا: “ہم ان حملوں کی مذمت کرتے ہیں جو تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور ہماری سمندری برادری کی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔” ان کے مطابق حالیہ دنوں میں بحیرہ اسود میں کم از کم چار تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں کئی پر بھارتی ملاح سوار تھے۔
اس سے قبل پلاؤ کے پرچم والے جہاز “ایم وی ایبل” پر بھی ڈرون حملہ ہوا تھا جس کے 18 ملاحوں میں سات بھارتی شامل تھے — سب کو بچا لیا گیا، ایک بھارتی زخمی ہوا جو ابھی طبی نگرانی میں ہے۔ بلغاریہ کے حکام کی بروقت مدد پر بھارت نے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
واقعے کی ٹائم لائن
- 12 فروری 2026: یوکرین نے آفرامیکس ریو کو 91 جہازوں کے ہمراہ روس کے “شیڈو فلیٹ” کے طور پر پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا
- 5 اکتوبر: ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق جہاز سوچی کے جنوب مشرق میں سیریئس کے ساحل کے قریب موجود تھا
- 6 اکتوبر (منگل) شام: سمندری ڈرونز کا حملہ، جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی
- 7 اکتوبر: تمام 23 بھارتی ملاح بچا لیے گئے؛ سوچی کے میئر نے ساحل اور سیر گاہیں بند کرنے کا اعلان کیا
- 8 اکتوبر: بھارت کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملوں کی باضابطہ مذمت
یہ واقعہ کیوں اہم ہے
بحیرہ اسود اب روس-یوکرین جنگ کا دوسرا محاذ بن چکا ہے، اور اس بار نشانہ وہ “شیڈو فلیٹ” ہے جس کے ذریعے روس پابندیوں کے باوجود تیل بیچتا ہے۔ یوکرین کے لیے یہ معاشی جنگ ہے: ہر جلتا ٹینکر ماسکو کی آمدن پر وار ہے۔ مگر اس جنگ کی قیمت بھارتی ملاح ادا کر رہے ہیں — چند دنوں میں چار جہاز، درجنوں بھارتی شہری۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی، جو اب تک محتاط لہجہ رکھے ہوئے تھا، اب کھل کر مذمت کر رہا ہے۔ سوچی جیسے سیاحتی شہر کے ساحل بند ہونا اور فضائی معیار کی نگرانی بتاتی ہے کہ یہ صرف عسکری نہیں، ماحولیاتی خطرہ بھی ہے۔ اگر یہ سلسلہ رکا نہیں تو بحیرہ اسود کی تجارتی جہاز رانی — اور اس پر انحصار کرنے والی معیشتوں — کے لیے آنے والے ہفتے مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔
روسی امدادی ادارے آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ سوچی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آلودگی کی سطح صحت کے لیے خطرناک حد سے بہت نیچے ہے۔ سوال اب یہ نہیں کہ اگلا حملہ ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کب اور کہاں ہوگا۔

قارئین کے تبصرے (0)