ریاض: سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ کو ہفتے کے روز ایک بار پھر میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا — ایک ہی ہفتے میں ایئرپورٹ پر ہونے والا یہ تیسرا بڑا حملہ ہے۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ ایئرپورٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے دو علاقائی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے کے بعد ایئرپورٹ کی عمارت کو خالی کرا لیا گیا اور فضائی ٹریفک روک دی گئی۔ ایک حکام کے مطابق میزائل ایئرپورٹ کے مسافر ٹرمینل سے ٹکرایا اور کئی افراد زخمی ہوئے۔ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق آخری تجارتی پرواز مقامی وقت کے مطابق دوپہر دو بج کر پانچ منٹ پر اتری تھی، اس کے بعد ریاض آنے والی تمام پروازیں یا تو منسوخ کر دی گئیں یا دوسرے شہروں کی طرف موڑ دی گئیں۔
سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے اپنے بیان میں حملے کو “شرمناک کارروائی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کی صحیح تعداد معلوم کی جا رہی ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ کی سہولیات کی حفاظت کی تصدیق ہونے تک آپریشن معطل رہے گا۔
حملے کے فوراً بعد ایئرپورٹ کی طرف ایمبولینسوں کی قطاریں دیکھی گئیں اور طبی امدادی ہیلی کاپٹر بھی سرگرم رہے۔ ریاض کے رہائشی احمد سید نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا: “میں نے کم از کم دو زور دار دھماکے سنے جن سے پورا شہر ہل گیا۔”
اب تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ اس سے پہلے کے حملوں کی ذمہ داری ایران کے حامی حوثیوں نے قبول کی تھی۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب کو یمن میں حکومت کی حمایت پر نشانہ بنا رہے ہیں۔
پروازوں پر اثرات گہرے ہیں۔ کویت ایئرویز نے ریاض سے اور ریاض کی طرف دو پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اتحاد ایئرویز اور قطر ایئرویز نے بھی کئی پروازیں منسوخ کی ہیں جن میں سے کچھ کی منسوخی پیر تک جاری رہے گی۔ جرمن لفتھانزا نے 16 اکتوبر تک ریاض کی خدمات معطل کر دی ہیں، جبکہ ائیر انڈیا اور ائیر انڈیا ایکسپریس نے بھی ریاض کی پروازیں بالترتیب 15 اور 14 اکتوبر تک روک دی ہیں۔
سفارتی سطح پر بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔ جرمنی اور اسپین نے اپنے شہریوں کو ریاض ایئرپورٹ سے گریز کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ کینیڈا کے سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو “جاری فوجی سرگرمیوں” کا حوالہ دیتے ہوئے ایئرپورٹ کی طرف تمام سفر سے بچنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ برطانیہ اور فرانس نے بھی سفر کی وارننگ جاری کی ہے۔
یہ حملے اسی سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں جو گزشتہ ہفتے شروع ہوا تھا۔ جمعرات کے حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک ہوئے تھے جن میں سعودیہ کا پائلٹ کیپٹن حمود علی الکلثامی بھی شامل تھا۔ ہفتے کے روز ہی سعودی قیادت والے اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے 136 فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
یہ واقعہ کیوں اہم ہے؟ اس لیے کہ دارالحکومت کا مرکزی ایئرپورٹ اب حوثیوں کے لیے مستقل ہدف بن چکا ہے — ایک ہی ہفتے میں تین حملے اس بات کا اشارہ ہیں کہ جنگ سعودی سرحدوں سے آگے اس کی شہری انفراسٹرکچر تک پہنچ چکی ہے۔ سعودی عرب میں 20 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں اور پی آئی اے سمیت متعدد ائیرلائنز کی پروازیں متاثر ہیں، اس لیے ریاض کے مسافروں کو اپنی ائیرلائن سے رابطہ کر کے پرواز کا اسٹیٹس ضرور معلوم کرنا چاہیے۔ ایران-امریکا جنگ کے نئے محاذ پر یہ حملے تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)