Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

آبنائے ہرمز میں کنٹینر جہاز ڈوب گیا: کراچی سے روانہ جی ایف ایس پرائیڈ پر حملہ، عملہ بحفاظت

آبنائے ہرمز میں گشت کرتے امریکی کوسٹ گارڈ کے جہاز — 2022 کی تصویر

دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بدھ کے روز ایک بڑا بحری حادثہ پیش آیا۔ سنگاپور کے پرچم تلے سفر کرنے والا کنٹینر جہاز “جی ایف ایس پرائیڈ” کسی نامعلوم ہتھیار کا نشانہ بننے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ کر ڈوب گیا۔ خوش قسمتی سے جہاز پر سوار عملے کے تمام 21 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

سنگاپور کی میری ٹائم اتھارٹی کی تصدیق

سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی (ایم پی اے) نے بدھ کو جاری کردہ بیان میں تصدیق کی کہ جی ایف ایس پرائیڈ کو منگل کے روز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے بعد جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور نقصان اس قدر زیادہ تھا کہ جہاز بالآخر ڈوب گیا۔ اتھارٹی کے مطابق عملے میں کوئی سنگاپوری شہری شامل نہیں تھا اور تمام افراد محفوظ ہیں۔

اسی بیان میں ایک اور سنگاپور رجسٹرڈ کنٹینر جہاز “جی ایف ایس گزیل” کا بھی ذکر ہے، جسے بدھ کے روز نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ڈھانچے کو نقصان تو پہنچا مگر جہاز اپنی طاقت سے محفوظ لنگر گاہ تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔ اس پر سوار عملے کے تمام 22 ارکان بھی بحفاظت ہیں۔

ایم پی اے نے اپنے بیان میں ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا: “اس طرح کے حملے بلا اشتعال، ناقابلِ جواز اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔” اتھارٹی نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی جہاز رانی کو متاثر کرنے والا ہر اقدام بین الاقوامی قانون، بالخصوص اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کی مکمل پابندی کرے۔

کراچی سے روانہ ہوا تھا — پاکستان کا براہِ راست تعلق

اس خبر میں پاکستان کے لیے ایک براہِ راست تعلق بھی ہے۔ بحری ٹریفک کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس کے مطابق جی ایف ایس پرائیڈ یکم اکتوبر کو کراچی بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا اور 3 اکتوبر کو متحدہ عرب امارات کے الفجیرہ پہنچا تھا — یعنی ڈوبنے والا جہاز کچھ ہی روز قبل پاکستانی پانیوں سے گزرا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان کے محکمہ ہائیڈروگرافی نے 14 اکتوبر کو جہاز رانی کے لیے باضابطہ وارننگ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ “جی ایف ایس پرائیڈ ڈوب گیا ہے، تیرتے ہوئے کنٹینرز سے خبردار رہیں۔”

ایران کا متضاد دعویٰ: بحری سرنگ سے ٹکرایا

دوسری جانب ایران کی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بدھ کی صبح آبنائے کے جنوبی پانیوں میں ایک کنٹینر جہاز بحری سرنگ سے ٹکرا کر دھماکے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا اور ڈوب گیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ڈھائی ہزار سے زائد کنٹینرز لے کر “غیر مجاز اور خطرناک راستے” سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایران نے علاقے میں سفر کرنے والے مقامی جہازوں اور ماہی گیروں کو سمندر میں تیرتے کنٹینرز سے خبردار کیا ہے۔

یہ واضح نہیں کہ ایران جس جہاز کی بات کر رہا ہے وہ جی ایف ایس پرائیڈ ہی ہے یا کوئی اور۔ دونوں بیانات میں کنٹینرز کی تعداد ملتی جلتی ہے، مگر حملے کی نوعیت مختلف بتائی گئی ہے — سنگاپور اور مغربی ذرائع پروجیکٹائل کے حملے کی بات کرتے ہیں جبکہ ایران بحری سرنگ کا دعویٰ کرتا ہے۔ برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی فرم وینگارڈ کے مطابق جی ایف ایس پرائیڈ کو منگل کو پروجیکٹائل لگا تھا اور وہی جہاز ڈوبا ہے۔

ڈوبنے والا دوسرا جہاز — کشیدگی بڑھ رہی ہے

اقوام متحدہ کے بحری ادارے (آئی ایم او) کے اعداد و شمار کے مطابق جی ایف ایس پرائیڈ کا ڈوبنا 28 فروری کو امریکا ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ڈوبنے والا دوسرا تجارتی جہاز ہے۔ اسی روز یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ ستمبر میں نشانہ بننے والا اینٹیگوا و باربوڈا کے پرچم والا بلک کیریئر “کیپ ڈاؤ” بھی بچاؤ کی ناکام کوشش کے بعد ڈوب رہا ہے۔ وینگارڈ کے مطابق منگل کے روز علاقے میں تین مزید جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں سے دو اپنا سفر جاری رکھ سکے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کے دو سینئر عہدیداروں نے بتایا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئی حکمت عملی اپنا رہا ہے تاکہ تیل کی قیمتیں بلند رہیں۔

یہ پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز سے جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔ پاکستان کے لیے یہ گزرگاہ توانائی کی شریان ہے — قطر سے آنے والی ایل این جی اسی راستے سے آتی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسی رکاوٹ کے باعث پاکستان کے دونوں ایل این جی ٹرمینل کئی روز تک بند رہے، جس سے بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن کی قلت پیدا ہوئی۔

حکومت نے 14 اکتوبر سے پٹرول 2.71 روپے فی لیٹر سستا کیا ہے، مگر بدھ کے روز برینٹ خام تیل 105.80 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا — اس سے قبل ریاض پر حوثی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو چکا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھی تو صارفین کو ملا یہ ریلیف برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا، اور سردیوں میں گیس کی قلت کا خدشہ بھی بڑھ جائے گا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *