Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

پیوٹن کا ٹرمپ سے رابطہ: ایران کا امن فارمولا پہنچا دیا — کریملن کا انکشاف

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن

ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے مؤقف کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک پہنچا دیا ہے — کریملن کے مطابق پیوٹن نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ مل کر تہران کی “امن تجویز” ٹرمپ کے سامنے رکھی ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ہفتے کے روز بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان جمعے کو ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں پیوٹن نے “ایران کے صدر کے ساتھ ہم آہنگی میں” ایران کے امن مؤقف کو ٹرمپ تک پہنچایا۔ تاہم کریملن نے یہ نہیں بتایا کہ ایران کی تجویز میں کیا نکات شامل ہیں اور نہ ہی ٹرمپ کا جواب بتایا گیا۔

یہ رابطہ ایران جنگ کے حل کی سمت میں ماسکو کی اب تک کی سب سے براہ راست کوشش ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی یہ جنگ اب سات ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کی سفارتی کوششیں موسم گرما سے تعطل کا شکار ہیں۔

اس پیش رفت سے دو روز قبل پیوٹن نے ترکمانستان کے شہر ترکمانباشی میں ایران کے صدر سے ملاقات کی تھی جہاں انہوں نے ایران جنگ کے خاتمے میں “ہر ممکن مدد” کی پیشکش کی تھی۔ پیوٹن کا کہنا تھا کہ روس اس صورتحال کے حل کے لیے اپنی تمام تر طاقت استعمال کرنے کو تیار ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیوٹن نے اس ملاقات میں جنگ کے خاتمے کی ثالثی میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔

اس سے پہلے امریکا اور ایران کے درمیان جون میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر اتفاق ہوا تھا جس میں جنگ کے خاتمے کا خاکہ تیار کیا گیا تھا، لیکن آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر ایران کے حملوں کے بعد امریکا نے فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی تھیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بھی کوئی پیش رفت نہ کر سکے۔

یہ پیش رفت کیوں اہم ہے؟ اس لیے کہ سات ماہ کی جنگ میں پہلی بار ماسکو نے کھل کر ایران کی شرائط واشنگٹن تک پہنچانے کا کردار ادا کیا ہے — یعنی روس اب محض مبصر نہیں بلکہ فعال ثالث بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران جنگ کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے: تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے کی سلامتی سب اس جنگ کے نتائج سے جڑے ہیں۔ تاہم تجویز کے نکات اور ٹرمپ کے ردعمل کا انکشاف نہ ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ مذاکرات ابھی ابتدائی اور نازک مرحلے میں ہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *