روسٹوف-آن-ڈان — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ڈیزل معاہدے کے اعلان کو ابھی چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ یوکرین نے روس کی تیل کی سپلائی پر سیدھا وار کر دیا۔ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب یوکرینی ڈرونز نے جنوبی روس کے شہر روسٹوف-آن-ڈان میں تیل لوڈ کرنے والے ایک بڑے ٹرمینل کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ٹرمینل پر ایسی بھیانک آگ بھڑک اٹھی کہ آسمان کو چیرتی شعلوں کی لپیٹیں اور گاڑھے سیاہ دھویں کے بادل دور دور سے نظر آئے۔
آزاد روسی میڈیا آؤٹ لیٹ “اسٹرا” کی اوپن سورس تحقیقات کے مطابق نشانہ بننے والا ٹرمینل نووشاختینسک آئل ریفائنری کا “این زیڈ این پی” آئل لوڈنگ ٹرمینل ہے، جسے پہلے “یوگ روسی” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ ٹرمینل شہر کے زیلےزنوڈوروزنی ضلع میں واقع ہے اور سالانہ تقریباً 25 لاکھ ٹن پٹرولیم مصنوعات سنبھالتا ہے۔ یہ برآمدات کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کا اہم مرکز ہے، روسی فوج کو ایندھن فراہم کرتا ہے اور ماسکو کے لیے زرِ مبادلہ کی آمدنی پیدا کرتا ہے۔
روسٹوف کے گورنر یوری سلیوسار نے خطے پر ڈرون حملے اور شہر میں آگ لگنے کی تصدیق کر دی۔ ان کے بقول جمعے کی شام سے ہفتے کی صبح تک فضائی دفاعی نظام نے پچاس سے زائد ڈرونز کو مار گرایا۔ گورنر نے یہ بھی بتایا کہ حملے میں ایک ریلوے پل کو نقصان پہنچا، جس کے بعد دونوں سمتوں میں ٹرینوں کی آمدورفت روک دی گئی۔ کیف انڈیپینڈنٹ کے مطابق وہ مقامی شہریوں کی ویڈیوز یا نقصان کی حد کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا، جبکہ گورنر کے دعوے کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یہ حملہ اسی وقت ہوا جب ٹرمپ نے جمعے کی شام پیوٹن سے ٹیلی فونک بات چیت کے بعد اعلان کیا تھا کہ روس امریکا اور عالمی منڈی کو تیس لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا۔ امریکی محکمہ خزانہ کے آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول نے اس سلسلے میں جنرل لائسنس نمبر 135 جاری کیا، جو اپریل 2027 تک روسی ڈیزل کی خرید، ترسیل اور درآمد کی اجازت دیتا ہے — عملاً روسی ڈیزل پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس فیصلے کو پیوٹن کی “سالگرہ کا تحفہ” اور “انتہائی خوفناک” اقدام قرار دیا۔ فنانشل ٹائمز کو ایک سینئر یوکرینی اہلکار نے بتایا کہ ڈیزل معاہدے کے باوجود یوکرین روسی توانائی ڈھانچے پر دور مار ڈرون حملے جاری رکھے گا۔ زیلنسکی نے نو اکتوبر کو ہی اعلان کیا تھا کہ یوکرینی افواج نے روس میں اومسک اور اوختا کی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے الفاظ میں: “ہم روس کے حملوں کا جواب دیتے رہیں گے، اور یہ بالکل درست نشانے پر ہوگا۔”
اسی رات یوکرین کے جنرل اسٹاف نے روس میں میزائل سازی سے وابستہ تین تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جن میں تیور خطے کی ایک فیکٹری اور نزنی نووگوروڈ خطے میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی تلفی کا مرکز شامل ہے۔ نزنی نووگوروڈ کے گورنر کے مطابق حملہ روکتے ہوئے ایک فوجی ہلاک ہوا۔
دوسری طرف روس نے بھی حملے جاری رکھے۔ ہفتے کی صبح زاپورژیا میں گائیڈڈ بموں سے پانچ منزلہ رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک بچے سمیت چار افراد ہلاک اور دو بچوں سمیت گیارہ زخمی ہوئے۔
یہ حملہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں — یہ واشنگٹن کو یوکرین کا سیدھا پیغام ہے۔ ٹرمپ تیل کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے پیوٹن سے ڈیزل لے رہے ہیں، مگر کیف کے لیے یہ “معاہدہ” جنگ کو طول دینے کی قیمت پر ہے۔ زیلنسکی کے بقول پابندیوں میں نرمی سے پیوٹن کو جنگ جاری رکھنے کے لیے اربوں ڈالر مزید ملیں گے، اور یوکرین نے واضح کر دیا ہے کہ وہ روس کے تیل سے چلنے والی جنگی مشین کو روکنے کے لیے کسی امریکی ڈیل کا انتظار نہیں کرے گا۔ آنے والے ہفتوں میں یہی سوال اہم رہے گا: کیا ٹرمپ توانائی کی سیاست میں پیوٹن کے قریب ہوں گے، یا کیف کی ڈھیل برقرار رہے گی؟

قارئین کے تبصرے (0)