پیر کی شام جب ریاض کے آسمان میں زور دار دھماکوں کی گونج سنائی دی تو سعودی دارالحکومت کے باسیوں کو یہ سمجھنے میں زیادہ دیر نہ لگی کہ یمن کی جنگ ان کے دروازے تک آپہنچی ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ڈرونز، بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی مدد سے سعودی عرب کے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے — جن میں ریاض کا کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع رابغ کی آرامکو ریفائنری بھی شامل ہیں۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحیی سارع نے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ یہ تین “معیاری فوجی کارروائیاں” تھیں۔ ان کے بقول پہلی کارروائی میں کنگ خالد ایئرپورٹ کو “بالکل درست اور براہِ راست” نشانہ بنایا گیا جس سے فضائی ٹریفک متاثر ہوئی۔ دوسری کارروائی کا ہدف رابغ کی آرامکو ریفائنری تھی، جہاں ان کے دعوے کے مطابق حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ تیسری کارروائی میں ابہا ایئرپورٹ، خمیس مشیط ایئر بیس، عسیر کے علاقے میں عقافہ کیمپ اور نجران و جازان کے دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
سارع کے الفاظ میں، “یہ کارروائیاں ہمارے ملک کے خلاف سعودی جارحیت کا جواب ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت والے اتحاد نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دارالحکومت صنعا سمیت الجوف، تعز، حجہ، صعدہ اور مأرب پر ساٹھ فضائی حملے کیے جن میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری ہلاک ہوئے۔
ریاض میں دھماکوں کے بعد کنگ خالد ایئرپورٹ کی فضائی کارروائیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔ فلائٹ ٹریکنگ سروس فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ریاض سے پروازیں ایک بار پھر رک گئیں — آخری پرواز صبح نو بج کر اڑتیس منٹ پر روانہ ہوئی اور آخری لینڈنگ نو بج کر چھپن منٹ پر ریکارڈ کی گئی۔ کئی پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں اور متعدد ایئرلائنز نے سعودی دارالحکومت کی فضائی حدود سے گریز کرنا شروع کر دیا۔
سعودی وزارت خارجہ نے ان حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں مملکت کے “شہری، معاشی اور دیگر اہداف” پر مسلسل حوثی حملے قرار دیا۔ دوسری جانب سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بتایا کہ اتحاد کی بحری افواج نے یمن کے ساحلی شہر حدیدہ میں حوثیوں کے فوجی اہداف پر کارروائی کی — اسلحے کے ڈپو، دھماکہ خیز کشتیاں رکھنے کی تنصیبات اور بحری سرنگیں تباہ کر دی گئیں اور بحیرہ احمر کے جنوبی آبی راستوں کو نشانہ بنانے کی ایک “منصوبہ بند کارروائی” ناکام بنا دی گئی۔ یمنی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایک ہزار سے زائد حملے کیے اور سعودی اتحاد کے سو جنگی طیاروں نے فجر کے وقت اڑانیں بھریں۔
یہ کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچی ہے جب سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے اتوار کو یہ اعلان کیا تھا کہ وہ حوثیوں کے زیرِ قبضہ تمام علاقے واپس لے گی — وہ علاقے جو ایک عشرے سے زائد عرصے سے حوثیوں کے قبضے میں ہیں اور جہاں یمن کی آبادی کی اکثریت آباد ہے۔ اس سے پہلے یمنی حکومت کی افواج نے “آپریشن فجر یمن” کے تحت آبنائے باب المندب کے قبضے کا دعویٰ کیا تھا، جو تیل اور کارگو کی ترسیل کا ایک نہایت اہم آبی راستہ ہے۔ اور گزشتہ روز ریاض میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے دفاع اور خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں فوری فوجی دستوں کی تعیناتی پر اتفاق بھی ہوا تھا۔
یہ معاملہ پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟ اس کے تین سیدھے سبب ہیں۔ پہلا: لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں روزگار کے لیے مقیم ہیں، اور ریاض جیسے دارالحکومت پر میزائل حملوں کی خبریں ان کے خاندانوں کے لیے فکرمندی کا باعث ہیں۔ دوسرا: پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں فوجی دستے بھیجنے کا وعدہ کر چکا ہے — یعنی یہ تنازع اب اسلام آباد کے لیے محض ایک دور کی خبر نہیں رہا۔ تیسرا: بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں کشیدگی تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت اور مہنگائی پر پڑتا ہے۔
ایک احتیاط بھی ضروری ہے: یہ تمام دعوے حوثیوں کے اپنے ہیں۔ سعودی حکام نے اب تک ان حملوں سے ہونے والے نقصان کی کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور 101اردو اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)