Wednesday، 2 September 2026
ڈالر 278.40 سونا 242,500 KSE-100 82,450
🔴 بریکنگ نیوز
پاکستان، کرغزستان تعلقات میں اہم پیش رفت؛ تجارت، آئی ٹی اور سیکیورٹی پر معاہدے تعلیم، اخلاقیات اور مستقبل کا پاکستان: ہماری جامعات کا حقیقی منشور کیا ہونا چاہیے؟ نیند کا نظام اور ذہنی صلاحیت: رات کی 7 سے 8 گھنٹے نیند یادداشت کو 40 فیصد تیز کرتی ہے پاکستانی ڈراموں اور موسیقی کی عالمی پذیرائی: اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ٹاپ ٹرینڈنگ کوانٹم کمپیوٹنگ اور سیکیورٹی: پاکستانی سائبر ماہرین کا نیا اینٹی ہیکنگ پروٹوکول نیشنل گیمز 2026: ایتھلیٹکس اور بیڈمنٹن میں نوجوان کھلاڑیوں نے نئے قومی ریکارڈ قائم کر دیے سولر پینلز اور الیکٹرک بیٹریوں کی مقامی پیداوار میں 120 فیصد اضافہ مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی تجارتی راہداری معاہدہ: ایشیا اور یورپ کے درمیان نئے روابط پاکستان، کرغزستان تعلقات میں اہم پیش رفت؛ تجارت، آئی ٹی اور سیکیورٹی پر معاہدے تعلیم، اخلاقیات اور مستقبل کا پاکستان: ہماری جامعات کا حقیقی منشور کیا ہونا چاہیے؟ نیند کا نظام اور ذہنی صلاحیت: رات کی 7 سے 8 گھنٹے نیند یادداشت کو 40 فیصد تیز کرتی ہے پاکستانی ڈراموں اور موسیقی کی عالمی پذیرائی: اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ٹاپ ٹرینڈنگ کوانٹم کمپیوٹنگ اور سیکیورٹی: پاکستانی سائبر ماہرین کا نیا اینٹی ہیکنگ پروٹوکول نیشنل گیمز 2026: ایتھلیٹکس اور بیڈمنٹن میں نوجوان کھلاڑیوں نے نئے قومی ریکارڈ قائم کر دیے سولر پینلز اور الیکٹرک بیٹریوں کی مقامی پیداوار میں 120 فیصد اضافہ مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی تجارتی راہداری معاہدہ: ایشیا اور یورپ کے درمیان نئے روابط
کالم و تجزیے 1 September 2026 - 10:39 AM 1 منٹ مطالعہ

تعلیم، اخلاقیات اور مستقبل کا پاکستان: ہماری جامعات کا حقیقی منشور کیا ہونا چاہیے؟

صرف ڈگریاں بانٹنے کی بجائے تنقیدی سوچ، اخلاقی شعور اور فکری آزادی کو پروان چڑھانے پر مدلل تجزیاتی تحریر۔

علم، کتب اور کتب خانہ - تہذیبی ارتقاء کی بنیادیں

کسی بھی قوم کی حقیقی ترقی کا پیمانہ اس کی سڑکیں یا عمارتیں نہیں بلکہ اس کے تعلیمی اداروں میں پروان چڑھنے والی فکری بالیدگی اور اخلاقی اقدار ہوتی ہیں۔

آج ہماری جامعات کو ایسے گریجویٹس پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو نہ صرف جدید ترین ٹیکنالوجی کے شناسا ہوں بلکہ انسانی ہمدردی، سچائی اور سماجی انصاف کے پرچم بردار بھی ہوں۔

استاد کا کردار محض نصاب ختم کرانے والے کا نہیں بلکہ چراغ سے چراغ جلانے والے مشعل بردار کا ہے۔ جب تک ہم استاد کے احترام اور تحقیقی کلچر کو واپس نہیں لائیں گے، ترقی کا سفر ادھورا رہے گا۔

پروفیسر ارشد ندیم زیدی

معروف کالم نگار و دانشور

اپنی رائے دیں