سعودی عرب کے مشرقی شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کی شام ہونے والے ایک حملے میں ایک شخص ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے۔ سعودی محکمہ شہری ہوابازی (گاکا) نے جمعرات کی صبح جاری بیان میں تصدیق کی کہ تمام زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گاکا کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے میں ہونے والے مادی نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ عالمی فلائٹ ٹریکنگ سروس فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ایئرپورٹ کا رخ کرنے والی پروازوں کو دوسرے ہوائی اڈوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے، جس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
ابھی تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے بھی اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب پر ہونے والے بیشتر حملوں کے پیچھے اسی گروپ کا ہاتھ بتایا جاتا رہا ہے۔
یہ حملہ اسی روز پیش آیا جب سعودی عرب نے ایک اور خونریز واقعے کی تصدیق کی۔ سعودی وزارت توانائی کے مطابق بدھ کو ہی فضائی دفاعی نظام نے شیبہ آئل فیلڈ کی طرف آنے والے ایک ڈرون کو مار گرایا، مگر گرنے والے ملبے سے دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں فلپائن اور نیپال کے شہری شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں ایک پاکستانی اور ایک بھارتی شہری بھی ہے۔ وزارت نے یہ نہیں بتایا کہ ڈرون کس نے بھیجا تھا۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق بدھ کو مجموعی طور پر چھ ڈرون مار گرائے گئے۔
اسی بدھ کو امریکا نے بھی ایک غیر معمولی قدم اٹھایا: محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگاٹ کا کہنا تھا کہ “ایران کے حمایت یافتہ حوثی سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لا رہے ہیں، جن میں شہری ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حملے بھی شامل ہیں، جس سے شہری ہلاکتیں اور سفری نظام میں شدید خلل پڑ رہا ہے۔”
رواں ماہ سعودی عرب پر حملے تقریباً روز کا معمول بن چکے ہیں۔ 10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے — یہ برسوں کا سب سے خونریز حملہ تھا۔ اگلے ہی روز اسی ایئرپورٹ پر ایک اور حملے میں ایک شخص ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بدھ کو ریاض ایئرپورٹ محدود ملکی پروازوں کے لیے کھولا گیا تھا، مگر شام ہوتے ہی دمام نشانہ بن گیا۔
اسی رات ایران کے اندر بھی کشیدگی کی خبر سامنے آئی۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے بتایا کہ بدھ کی رات آبنائے ہرمز کے کنارے صوبہ ہرمزگان کے علاقے سیرک کے کارپان میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ارنا کے مطابق “مقامی ذرائع نے ابھی تک ان دھماکوں کی نوعیت واضح نہیں کی” — یہ واضح نہیں کہ یہ کسی حملے کا نتیجہ تھے یا وہاں سے میزائل داغے گئے۔ یہ اس ماہ اس علاقے میں پہلے دھماکے ہیں، جبکہ امریکا ایران جنگ میں حالیہ ہفتے نسبتاً سکون رہا تھا۔ آبنائے ہرمز میں ٹینکرز پر حالیہ حملوں کے تناظر میں یہ پیش رفت خاصی اہم ہے۔
پاکستانی زاویہ: دمام اور سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں، اور شیبہ واقعے میں ایک پاکستانی شہری کے زخمی ہونے کی خبر نے یہاں کے خاندانوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ پروازوں کی معطلی سے عمرہ زائرین اور وطن آنے والے مسافر بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ — برینٹ 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر — پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے: حوثی اب سعودی عرب کے شہری ہوائی اڈوں کو باقاعدہ نشانہ بنا رہے ہیں — ریاض، ابھا اور اب دمام۔ ہوائی اڈے کسی بھی ملک کی معیشت کی شہ رگ ہوتے ہیں، اور ان پر بار بار حملے سعودی عرب کے “ویژن 2030” کے سیاحتی و معاشی خواب کو دھچکا پہنچا رہے ہیں۔ امریکا کا سفارتی عملہ واپس بلانا اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن حالات کو معمولی نہیں سمجھ رہا۔ اور ہرمزگان کے دھماکے بتاتے ہیں کہ کشیدگی صرف یمن محاذ تک محدود نہیں — پورا خطہ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)