امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بدھ کو روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کی آج روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات طے ہے۔ وٹکوف پلکاوو ہوائی اڈے پر اترے تو کریملن کے ایلچی کریل دمتریف نے ان کا استقبال کیا۔ روسی میڈیا کے مطابق دونوں کے درمیان بات چیت آج دن کے پہلے حصے میں ہوگی۔
وٹکوف ناروے کے دارالحکومت اوسلو سے براہِ راست روس پہنچے ہیں، جہاں انہوں نے منگل کو یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی، فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب اور یورپی رہنماؤں سے مذاکرات کیے تھے۔ ایک امریکی عہدیدار نے ان مذاکرات کو “تعمیری” قرار دیا اور بتایا کہ یوکرین نے “نئے خیالات اور تجاویز” پیش کیں جن پر تفصیل سے غور ہوا۔ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی اوسلو اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے تھے۔
اوسلو میں یوکرین کی سلامتی کی ضمانتوں، جنگ کے بعد کے معاشی منصوبے اور یورپ کی سلامتی کے وسیع تر ڈھانچے پر بات ہوئی۔ امریکی عہدیدار کے مطابق اب دونوں فریق “اگلے اقدامات” پر مضبوط ہم آہنگی میں ہیں، اور وٹکوف کا مقصد روس کے ساتھ “براہِ راست سہ فریقی اور وسیع تر کثیر فریقی مذاکرات کا راستہ” بنانا ہے۔
زیلنسکی نے اوسلو میں کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں — امریکا نے روسی میزائل حملوں کی پیشگی انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی دوبارہ شروع کر دی ہے۔ “اب یہ کام کر رہا ہے، یہ بہت اچھا ہے،” انہوں نے صحافیوں سے کہا۔ انہوں نے بتایا کہ سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو سے پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز اور اسٹار لنک نظام کی فراہمی پر بھی بات ہوئی۔ یہ وہی تعلقات ہیں جن میں گزشتہ ہفتے اس وقت دراڑ پڑی تھی جب ٹرمپ نے زیلنسکی کو نیا صدر لانے کا مشورہ دیا تھا۔
دوسری طرف ٹرمپ نے اوول آفس میں کہا کہ یوکرین کے لیے جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ماسکو کے ساتھ ان کے بڑھتے تعلقات — خصوصاً روس سے ڈیزل خریداری کے حالیہ معاہدے — پر امریکی کانگریس اور یورپی دارالحکومتوں میں تنقید ہو رہی ہے۔
کریملن کی جانب سے صدر پیوٹن کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا کہ یوکرین میں تصفیے پر مذاکرات “آج کے ایجنڈے کا قدرتی حصہ” ہوں گے۔ ملاقات سینٹ پیٹرزبرگ کے کونسٹنٹائن محل میں ہوگی اور کریل دمتریف بھی شریک ہوں گے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے تاہم کہا کہ ماسکو امریکی تجاویز سننے کو تیار ہے، مگر وہ واشنگٹن سے کسی “معجزے” کی توقع نہیں رکھتے۔
ناروے کے وزیراعظم یونس گار اسٹورے نے کہا کہ شاید اب ایسا مرحلہ آیا ہے جہاں “روسی بھی سفارت کاری کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ وٹکوف روس کے دورے کے بعد مزید مشاورت کے لیے اوسلو واپس آئیں گے۔ زیلنسکی بھی بدھ کو اوسلو میں ہی رہے، جہاں انہوں نے ناروے کی پارلیمنٹ کا دورہ کیا۔
یہ سفارتی سرگرمی ساڑھے چار سال سے جاری جنگ کے تناظر میں ہو رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ گزشتہ سال کے اوائل سے جنگ کے خاتمے کی کوششیں کر رہی ہے، مگر اب تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔ دونوں فریق شرائط پر اب بھی بہت دور ہیں: روس ڈونباس کے مکمل علاقے کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ یوکرین کسی بھی علاقائی سودے بازی کو مسترد کرتا ہے۔ پیوٹن گزشتہ ہفتے ٹرمپ کو ایران کا امن فارمولا بھی پہنچا چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو واشنگٹن کے ساتھ کئی محاذوں پر بیک وقت بات کر رہا ہے۔
یہ ملاقات کیوں اہم ہے؟ پہلی بار امریکا یوکرین کی تازہ تجاویز لے کر براہِ راست پیوٹن کے پاس جا رہا ہے — یعنی اوسلو میں جو “معنی خیز پیش رفت” ہوئی، اس کا اصل امتحان آج سینٹ پیٹرزبرگ میں ہوگا۔ عالمی قارئین کے لیے اس کے اثرات تیل اور گیس کی قیمتوں سے لے کر یورپ کی سلامتی تک ہیں: یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ مگر احتیاط بھی ضروری ہے — لاوروف کا “معجزے” والا جملہ بتاتا ہے کہ ماسکو جلد بازی میں نہیں، اور ٹرمپ کا کییف پر بڑھتا دباؤ یوکرین کو کمزور پوزیشن میں دھکیل سکتا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)