Tuesday, 20 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

رامافوسا کا انتباہ: جنوبی افریقہ امریکا کی ڈیوٹی فری تجارت سے محروم ہو سکتا ہے — AGOA کا مستقبل داؤ پر

اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جنوبی افریقی صدر سرل رامافوسا کی ملاقات

اہم نکات

  • صدر سرل رامافوسا نے پیر کو کہا: جنوبی افریقہ کو امریکا کی ڈیوٹی فری تجارتی اسکیم AGOA سے اخراج کی تیاری کرنی چاہیے۔
  • AGOA امریکا کی افریقی ممالک کے لیے ڈیوٹی فری رسائی والی اسکیم ہے جسے 2028 کے آخر تک تجدید دی گئی ہے؛ جنوبی افریقہ اس کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا ملک ہے۔
  • رامافوسا کے مطابق کانگریس نے جنوبی افریقہ کو اسکیم میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے، اب فیصلہ ایگزیکٹو (ٹرمپ) کے ہاتھ میں ہے۔
  • اخراج کی صورت میں روزگار پر اثر “تباہ کن” ہوگا؛ پریٹوریا متبادل منڈیوں کے لیے چین کے زیرو ٹیرف اسکیم کی طرف دیکھ رہا ہے۔

جوہانسبرگ سے آنے والی یہ خبر افریقہ کی سب سے بڑی معیشت کے لیے تشویشناک ہے۔ جنوبی افریقہ کے صدر سرل رامافوسا نے 19 اکتوبر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کھل کر کہا کہ ان کے ملک کو اس امکان کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ واشنگٹن اسے افریقی گروتھ اینڈ اپرچونیٹی ایکٹ (AGOA) سے نکال دے۔

AGOA کیا ہے؟ یہ امریکا کا وہ قانون ہے جو اہل افریقی ممالک کی ہزاروں اشیا کو امریکی منڈی میں بغیر ڈیوٹی کے رسائی دیتا ہے۔ اس اسکیم کی مدت 2028 کے آخر تک بڑھا دی گئی ہے، اور جنوبی افریقہ اس کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا ملک رہا ہے۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں واشنگٹن اور پریٹوریا کے تعلقات بتدریج بگڑے ہیں — امریکی امداد کاٹی گئی، جنوبی افریقہ کا سفیر نکال دیا گیا، اور اوول آفس میں ٹرمپ نے رامافوسا کو سفید فام آبادی کے “قتل عام” کے غیر مصدقہ دعوؤں پر سرعام ڈانٹا تھا۔

رامافوسا کے بقول کانگریس نے تو فیصلہ کر لیا ہے کہ جنوبی افریقہ AGOA میں رہے، “اب جو باقی ہے وہ ایگزیکٹو ہے” — یعنی حتمی دستخط صدر ٹرمپ کے کرنے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: “مجھے بحیثیت صدر خود کو اس کے لیے تیار کرنا ہے، اگر یہ کبھی ہو۔” انہوں نے خبردار کیا کہ اخراج کی صورت میں روزگار پر اثرات “تباہ کن” ہوں گے۔

دباؤ کی جڑیں کہاں ہیں؟

واشنگٹن کی تنقید کا محور زمین کی ضبطی اور نسل پر مبنی امتیاز کے الزامات ہیں — وہ معاملات جن پر دونوں ممالک کے درمیان سخت اختلاف ہے۔ ستمبر میں امریکا نے ان جنوبی افریقی شہریوں کے ویزوں پر پابندیاں لگائیں جو “نسلی امتیاز کو فروغ دیں، تشدد کو اکسائیں یا بغیر معاوضے زمین ضبط کرنے کو ممکن بنائیں”۔ دوسری طرف گزشتہ برس امریکا نے ان سفید فام افریکانرز کے لیے دوبارہ آبادکاری کا پروگرام شروع کیا تھا جو وہاں ظلم و ستم کا دعویٰ کرتے ہیں؛ ستمبر کے آخر تک 16,287 جنوبی افریقی اس پروگرام کے تحت امریکا پہنچ چکے تھے — وہ واحد افراد تھے جنہیں واشنگٹن نے پناہ گزین کا درجہ دیا۔

رامافوسا نے بتایا کہ وہ اور نائب صدر پال مشتیلے متبادل منڈیوں کی تلاش میں دنیا بھر کے دورے کر رہے ہیں۔ مثبت قدم کے طور پر انہوں نے چین کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدے کا ذکر کیا — بیجنگ نے مئی میں اہل جنوبی افریقی اشیا کے لیے زیرو ٹیرف اسکیم متعارف کرائی تھی۔

پاکستان کے لیے سبق

یہ کہانی اسلام آباد کے لیے بھی پڑھنے والی ہے۔ پاکستان کی برآمدات بھی ایسے ہی ترجیحی انتظامات پر کھڑی ہیں — یورپی یونین کا GSP+ اسٹیٹس، اور امریکی منڈی میں ٹیکسٹائل کی رسائی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے جس طرح روس کے تیل کے خریداروں پر پابندیاں لگائیں اور جس طرح اب جنوبی افریقہ پر تجارتی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، وہ ایک ہی پیغام دیتا ہے: تجارتی انحصار، خواہ کسی دوست منڈی پر ہو، سیاسی تعلقات کے اتار چڑھاؤ سے محفوظ نہیں۔ جنوبی افریقہ کا چین کی طرف دیکھنا دراصل وہی حکمت عملی ہے جو پاکستان کو بھی چاہیے — منڈیوں کی تنوع، ایک ہی دروازے پر انحصار نہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ کانگریس کی خواہش کے باوجود جنوبی افریقہ کو AGOA سے باہر کریں گے؟ رامافوسا نے خود جواب میں اشارہ دیا: “ہم AGOA سے نکالے جانے والے پہلے اور واحد ملک نہیں، اور میرا خیال ہے آخری بھی نہیں ہوں گے۔” یہ بیان بتاتا ہے کہ پریٹوریا بدترین صورتحال کو حقیقی امکان سمجھ کر منصوبہ بندی کر رہا ہے — اور جو ممالک امریکی تجارتی رسائی پر انحصار کرتے ہیں، وہ یہ منظر بغور دیکھ رہے ہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *