Tuesday, 20 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

زیلنسکی کے مشیر کا بی بی سی کو انٹرویو: “امریکی وارننگ نہ ملنے سے یوکرینی شہری مر رہے ہیں”

کیف کے میٹرو اسٹیشن میں فضائی حملے کے دوران پناہ لیے ہوئے یوکرینی شہری

کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ایک اہم مشیر نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو میں سنگین الزام عائد کیا ہے کہ روسی بیلسٹک میزائل حملوں کی بروقت امریکی وارننگ نہ ملنے کی وجہ سے یوکرینی شہری اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔

صدر زیلنسکی کے مشیر سرہی “فلیش” بیسکریسنوف نے کہا: “یہ خطرناک ہے… میرے خیال میں یہ واقعی بہت برا ہے… لوگ پہلے ہی مر چکے ہیں۔” ان کے بقول واشنگٹن سے فضائی حملوں کی وارننگ کا سلسلہ غیر مستقل اور نامکمل ہے: “یہ بہت عجیب لگتا ہے۔ کبھی ہمیں حملے سے پہلے یہ معلومات مل جاتی ہیں، کبھی نہیں ملتیں۔”

بیسکریسنوف نے ایک چونکا دینے والی مثال دی: “مثال کے طور پر کل رات ہمیں یہ معلومات ملیں، لیکن… حملے سے صرف ایک منٹ پہلے۔” ان کا کہنا تھا کہ اتنے کم وقت میں شہریوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانا ناممکن ہو جاتا ہے۔

تاہم مشیر نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ انٹیلیجنس تعاون مکمل طور پر رکا نہیں: “انٹیلیجنس کا ڈیٹا بدستور آ رہا ہے، مسئلہ صرف فضائی حملے کی وارننگ والے حصے کا ہے۔”

یہ انٹرویو ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پیر کی صبح خود صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ رات بھر دارالحکومت کیف پر دو بیلسٹک میزائل حملے ہوئے — ایک حملے کی کوئی وارننگ نہیں ملی، جبکہ دوسرے میں پناہ لینے کے لیے انتہائی کم وقت ملا۔ یہ حملے روس کے یوکرین پر تازہ حملوں کے اسی سلسلے کی کڑی ہیں جن میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس سے چند گھنٹے قبل این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا تھا کہ تین روزہ تعطل کے بعد انٹیلیجنس شیئرنگ بحال ہو گئی ہے: “ہم اس کے بہت شکر گزار ہیں۔ صرف امریکا کے پاس یہ منفرد انٹیلیجنس ہے جو بتا سکتی ہے کہ روس کب بیلسٹک میزائل استعمال کرتا ہے۔”

واشنگٹن نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یوکرین کے ساتھ انٹیلیجنس شیئرنگ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انٹیلیجنس شیئرنگ میں کوئی “تعطل” نہیں آیا، البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ چند رات قبل یوکرین کے ابتدائی وارننگ سسٹم میں سافٹ ویئر کی خرابی پیش آئی تھی۔

بیسکریسنوف نے انٹرویو میں اسٹار لنک اور اس کی فوجی سروس اسٹار شیلڈ پر عائد پابندیوں کا بھی ذکر کیا۔ گزشتہ ہفتے اسٹار شیلڈ نے موبائل یونٹوں کے لیے رابطہ برقرار رکھنے کی رفتار کی حد 100 میل فی گھنٹہ (160 کلومیٹر) مقرر کر دی تھی، جس سے یوکرین کی ڈرون مار گرانے اور درمیانی فاصلے کے ڈرون حملوں کی صلاحیت متاثر ہوئی — یہ وہی پابندی ہے جس کے بارے میں پہلے خبر آئی تھی کہ وائٹ ہاؤس کے حکم پر یوکرین کی اسٹار شیلڈ سروس سست کی گئی۔ اسٹار لنک کے مالک ایلون مسک کا کہنا ہے کہ اسٹار شیلڈ تک رسائی کا حتمی اختیار امریکی حکومت کے پاس ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے اس میں کسی کردار سے انکار کیا ہے۔

یہ تنازع اس پس منظر میں اٹھا ہے کہ گزشتہ ہفتے یوکرین نے پہلی بار امریکی انٹیلیجنس شیئرنگ میں خلل کی شکایت کی تھی — عین اس وقت جب ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روس سے تیل درآمد کے متنازع معاہدے پر تعلقات نچلی سطح پر پہنچ گئے تھے۔ کیف میں بہت سے لوگوں کو شبہ ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں۔ بیسکریسنوف کے مطابق یہ “غالباً” یوکرین پر دباؤ ڈالنے کی سوچی سمجھی کوشش ہے تاکہ اسے روس سے مذاکرات اور سمجھوتے کی میز پر لایا جا سکے۔

مشیر کے مطابق یوکرین اب اسٹار لنک کے متبادل مواصلاتی نظاموں کی تلاش میں ہے — نہ صرف فضائی دفاع بلکہ افواج اور شہریوں کے درمیان رابطے کے لیے بھی، کیونکہ انہیں معلوم نہیں کہ آگے کیا توقع رکھنی چاہیے۔

یہ کیوں اہم ہے: یہ واقعہ یوکرین کی جنگ میں ایک نازک موڑ کی نشاندہی کرتا ہے — کیف کا فضائی دفاعی نظام عملی طور پر امریکی انٹیلیجنس اور امریکی ٹیکنالوجی پر کھڑا ہے، اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں دراڑ براہ راست شہریوں کی جانوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اگر یہ خلل واقعی دباؤ کی حکمت عملی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ امریکا اب یوکرین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اس کی دفاعی ڈھال کو ہی دباؤ کا ہتھیار بنا رہا ہے — ایک ایسا رخ جو آنے والے ہفتوں میں جنگ کی سمت طے کر سکتا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *