ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب یوکرین نے روس کے دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرزبرگ پر اب تک کے سب سے بڑے ڈرون حملوں میں سے ایک کیا، جس میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔ شہر کے تیل ٹرمینل، ایک بڑے آن لائن خوردہ فروش کے لاجسٹکس سینٹر اور روسی سوشل میڈیا کمپنی کے ڈیٹا سینٹر میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ دارالحکومت ماسکو کی طرف آنے والے سیکڑوں ڈرون بھی فضائی دفاع نے تباہ کر دیے۔
سینٹ پیٹرزبرگ کے گورنر الیکزندر بےگلوف نے ٹیلی گرام پر اعلان کیا کہ حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا اور پانچ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق شہر کے آئل ٹرمینل — جسے جون میں بھی نشانہ بنایا گیا تھا — کے علاوہ Ruchyi آئل ڈپو اور Kolpinsky ضلع کے صنعتی گوداموں میں آگ لگ گئی۔ بارہ رہائشی عمارتیں اور دو نجی مکانات متاثر ہوئے، اور بےگلوف نے لکھا کہ “فضائی دفاعی نظام کام کر رہے تھے”۔
یوکرین کے مانیٹرنگ چینلز کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 2:50 پر شروع ہوا۔ شہر کے رہائشیوں کی بنائی گئی ویڈیوز میں رات کے آسمان پر دھماکوں کی روشنی دیکھی جا سکتی ہے — سینٹ پیٹرزبرگ میں 56 لاکھ افراد رہتے ہیں اور یہ یوکرین کی سرحد سے تقریباً 856 کلومیٹر دور ہے۔
روسی ای کامرس کمپنی Ozon نے تصدیق کی کہ اس کا سینٹ پیٹرزبرگ کا لاجسٹکس سینٹر آگ کی لپیٹ میں آ گیا اور عملے کو نکال لیا گیا، تاہم وہاں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ روسی سوشل میڈیا کمپنی VK نے بتایا کہ لینن گراڈ ریجن میں اس کا ڈیٹا سینٹر نشانہ بنا، لیکن اس کی سروسز معمول کے مطابق دستیاب ہیں۔
لینن گراڈ ریجن کے گورنر الیکزندر ڈروزڈینکو کے مطابق چار افراد اسپتال میں داخل ہیں، Gatchina میں ڈرون کے ملبے نے ایک اپارٹمنٹ عمارت کو نقصان پہنچایا اور Novosyolye میں 55 کھڑی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ پچاس رہائشی عمارتوں میں ہنگامی طور پر بجلی بند کر دی گئی، جس سے تقریباً بیس ہزار افراد متاثر ہوئے۔ شہر کے پلوکوو ہوائی اڈے پر بھی حفاظت کے پیش نظر پروازیں محدود کر دی گئیں۔
روسی وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ رات بھر روس، کریمیا اور بحیرہ اسود کے اوپر 1,015 یوکرینی ڈرون مار گرائے گئے۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن کے مطابق ماسکو کی طرف آنے والے 512 ڈرون میں سے اکثر کو دارالحکومت سے دور ہی تباہ کر دیا گیا۔ Kyiv Independent نے لکھا کہ وہ ہدف اور نقصان کی حد کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
حملوں کے تبادلے کا خطرناک سلسلہ
یہ حملہ ایک خطرناک سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔ جمعے کو روس کے حملوں میں یوکرین کے آٹھ شہری ہلاک اور دس لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم ہو گئے تھے، جبکہ اسی ہفتے صدر زیلنسکی نے کہا تھا کہ یوکرین روسی ریفائنریوں پر حملے دوبارہ شروع کرے گا۔ اب دونوں فریق ایک دوسرے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں — اور سینٹ پیٹرزبرگ پر حملے میں ہلاکت اس بات کی علامت ہے کہ جنگ اب روس کے گہرے اندرونی علاقوں تک پہنچ چکی ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا براہ راست مطلب تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ ہے۔ برینٹ پہلے ہی 110 ڈالر سے اوپر جا چکا ہے، اور پاکستان میں پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں اب روزانہ کی بنیاد پر نظرثانی ہوتی ہیں — روسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہر بڑا حملہ عالمی منڈی میں نئی لہر پیدا کرتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر پاکستانی صارف کی جیب پر پڑتا ہے۔
مزید پڑھیے: روس کے یوکرین پر تازہ حملے: 8 افراد ہلاک، دس لاکھ سے زائد بجلی سے محروم | یوکرین کا روسی آئل ریفائنریوں پر حملے دوبارہ شروع — زیلنسکی: “پابندی ختم، اب بس”

قارئین کے تبصرے (0)