ہوا کیا ہے؟
سینیگال کے سابق صدر میکی سال نے ہفتے، 17 اکتوبر کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کی دوڑ سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔ یہ اعلان ایکس پر جاری مراکش سے تاریخ شدہ بیان میں سامنے آیا — اس کے محض ایک دن بعد جب سلامتی کونسل نے 16 اکتوبر کو چھٹا غیر رسمی “اسٹراو پول” کروایا تھا۔
میکی سال کون ہیں؟
64 سالہ میکی سال 2012 سے 2024 تک سینیگال کے صدر رہے۔ اقوام متحدہ کے سب سے بڑے عہدے کی اس دوڑ میں ان کی نامزدگی برونڈی نے کی تھی اور سینیگال نے کھل کر ان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ البتہ ان کی امیدواری شروع سے ہی تنازع میں گھری رہی — افریقی یونین کی جانب سے ان کی حمایت کے طریقہ کار پر نائیجیریا سمیت کئی ممالک نے سوال اٹھائے تھے۔
یہ “اسٹراو پول” ہوتا کیا ہے؟
اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل براہ راست ووٹ سے نہیں چنا جاتا۔ پہلے 15 رکنی سلامتی کونسل خفیہ بیلٹنگ کرتی ہے۔ ہر امیدوار کے لیے ارکان کے پاس تین آپشن ہوتے ہیں: “حوصلہ افزائی”، “حوصلہ شکنی” اور “کوئی رائے نہیں”۔ سفارش حاصل کرنے کے لیے کسی امیدوار کو کم از کم 9 حوصلہ افزائی ووٹ درکار ہوتے ہیں — اور شرط یہ ہے کہ پانچوں مستقل ارکان (امریکا، چین، روس، فرانس اور برطانیہ) میں سے کوئی بھی حوصلہ شکنی نہ کرے۔ مستقل رکن کی ایک سرخ ووٹ دراصل ویٹو کے برابر ہے۔
میکی سال ہارے کیسے؟
رپورٹس کے مطابق 16 اکتوبر کے ووٹ میں میکی سال کو صرف 5 حوصلہ افزائی ووٹ ملے جبکہ 10 ارکان نے ان کی حوصلہ شکنی کی — جن میں تین مستقل ارکان بھی شامل تھے۔ تین ویٹو کا مطلب یہ ہے کہ یہ دوڑ ان کے لیے عملاً ختم ہو چکی تھی۔ یہ پہلا موقع تھا جب بیلٹ رنگوں سے ممتاز تھے، یعنی واضح ہو گیا کہ مستقل ارکان نے کس کے خلاف ووٹ دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ساتوں امیدواروں میں سے کسی کو بھی پانچوں بڑی طاقتوں کی مکمل حمایت حاصل نہیں، اور ہر ایک کو کم از کم ایک سرخ ووٹ ملا۔
دستبرداری سے پہلے انہوں نے کس سے مشورہ کیا؟
میکی سال کے مطابق انہوں نے یہ فیصلہ برونڈی کے صدر ایوارستے ندایشیمیے — جو اس وقت افریقی یونین کے چیئرمین ہیں — اور سینیگال کے صدر باسیرو دیومائے فائے — جو مغربی افریقی علاقائی تنظیم ایکواس کے چیئرمین ہیں — سے مشاورت کے بعد کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا: “میں نے یہ فیصلہ گہری ذمہ داری کے احساس کے ساتھ کیا ہے، اس امید پر کہ اس سے سلامتی کونسل کے اندر متفقہ امیدوار کے ابھرنے میں مدد ملے گی۔”
اب دوڑ میں سب سے آگے کون ہے؟
ریبیکا گرینسپین۔ 70 سالہ گرینسپین کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر ہیں اور اس وقت اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کی تنظیم (انکٹاڈ) کی سیکرٹری جنرل ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چھٹے پول میں انہیں 9 حوصلہ افزائی، 5 حوصلہ شکنی اور ایک “کوئی رائے نہیں” ووٹ ملا — اور ان کے خلاف صرف دو ویٹو آئے، جو باقی امیدواروں سے کم ہیں۔ دیگر امیدواروں میں ارجنٹائن کے رافیل گروسی (جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ)، گیانا کی کیرولن روڈریگز برکٹ، یوگنڈا کے اولارا اوٹونو اور ایکواڈور کی ماریا فرنانڈا ایسپینوسا اور ایوون اے باکی شامل ہیں۔
کیا تاریخ کی پہلی خاتون سیکرٹری جنرل بن سکتی ہیں؟
میکی سال نے خود اپنے بیان میں اشارہ دیا کہ اب تک کے تمام ٹیسٹ ووٹوں کے نتائج لاطینی امریکا اور کیریبین کے کسی امیدوار — ممکنہ طور پر ایک خاتون — کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اسی سالہ دور میں آج تک کوئی خاتون سیکرٹری جنرل نہیں بنیں، اور موجودہ سات امیدواروں میں سے چار خواتین ہیں۔ البتہ ایک امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ساتوں موجودہ امیدواروں سے ناخوش ہے اور نئے ناموں پر غور کے لیے تیار ہے — یعنی آخری لمحے کوئی غیر متوقع “متفقہ” امیدوار بھی سامنے آ سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
اقوام متحدہ کا سربراہ کشمیر، فلسطین، غزہ اور موسمیاتی انصاف جیسے معاملات پر عالمی توجہ کا رخ طے کرتا ہے، اس لیے یہ دوڑ پاکستان کے لیے محض تماشا نہیں۔ لیکن میکی سال کی کہانی ایک کڑوا سبق بھی دیتی ہے: فیصلہ جنرل اسمبلی نہیں، سلامتی کونسل کرتی ہے — اور وہاں پانچ بڑی طاقتوں کا ویٹو ہر حساب الٹ دیتا ہے۔ افریقی یونین کی حمایت بھی تین سرخ ووٹوں کے سامنے بے بس نکلی۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ نیا سربراہ بڑی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے کتنا آزاد کھڑا ہو سکے گا۔ رخصت ہونے والے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس حال ہی میں اسلام آباد کے دورے پر آئے تھے، اور ان کے جانشین کا انتخاب اسی سلامتی کونسل کے ہاتھ میں ہے جو آج کل مشرق وسطی کے بحرانوں پر سرگرم ہے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
انتونیو گوتریس کی دوسری مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے، اور نئے سیکرٹری جنرل کو یکم جنوری 2027 کو عہدہ سنبھالنا ہے۔ سلامتی کونسل کی سفارش کے بعد جنرل اسمبلی حتمی توثیق کرتی ہے۔ اب نظر دسمبر کی طرف ہے — اور اس سوال پر کہ آیا گرینسپین اپنے دو ویٹو ختم کروا پائیں گی، یا بڑی طاقتیں کوئی ایسا نام نکال لائیں گی جس کی کسی نے توقع بھی نہ کی ہو۔

قارئین کے تبصرے (0)