Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

محمد بن سلمان بنکروں والے محلات میں منتقل — حوثی میزائل حملوں کے بعد سعودی ولی عہد کی سیکیورٹی سخت، وال اسٹریٹ جرنل کا انکشاف

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان — جی-20 اجلاس کے موقع پر 2019 میں لی گئی تصویر

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو حوثی میزائل حملوں میں شدت کے بعد بنکروں سے لیس، سخت پہرے والے شاہی محلات کے درمیان منتقل کیا جا رہا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے ان کی نقل و حرکت سے واقف حکام کے حوالے سے یہ انکشاف کیا ہے، جس کے بعد سعودی عرب میں جاری کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اکتالیس سالہ ولی عہد کی حفاظت کے لیے ایک خاص طور پر منتخب سیکیورٹی ٹیم تعینات کی گئی ہے، اور انہیں ایک کے بعد دوسرے ایسے محل میں منتقل کیا جا رہا ہے جو بنکروں اور جدید حفاظتی انتظامات سے لیس ہیں۔ محمد بن سلمان گذشتہ منگل کے بعد سے عوام میں نظر نہیں آئے — اس روز انہوں نے قومی خون عطیہ مہم میں حصہ لیا تھا۔ تب سے ان کی کوئی عوامی سرگرمی سامنے نہیں آئی، جو سعودی عرب میں غیر معمولی بات ہے، جہاں ولی عہد عام طور پر روزانہ خبروں کی زینت بنتے ہیں۔

سیکیورٹی بڑھانے کی اصل وجہ حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملے ہیں۔ ہفتے کے روز ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثی میزائل حملہ ہوا، جس میں وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق کم از کم تیرہ افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے — اسے ایک دہائی میں سعودی عرب پر ہونے والا مہلک ترین حملہ قرار دیا گیا ہے۔ ہوائی اڈہ اس حملے کے بعد سے بند پڑا ہے، اور پانچ دن کے دوران اسے چار بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اتوار کی شام ٹرمینل فور پر ایک اور پروجیکٹائل گرا جس سے آگ لگ گئی، جبکہ پیر کی رات ریاض اور خمیس مشیط کے اوپر مزید بیلسٹک میزائل تباہ کیے گئے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت کا شکار ہے، اور اتنے وسیع ملک کا فضائی دفاع کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کنگز کالج لندن میں سیکیورٹی اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریاس کریگ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ “پیٹریاٹ، تھاد، لڑاکا طیاروں اور دیگر سینسروں پر مشتمل ایک تہہ دار دفاعی نظام بھی سعودی عرب جتنے بڑے ملک پر ناقابلِ تسخیر گنبد قائم نہیں کر سکتا۔” ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کو ہر بار دفاعی نظام توڑنے کی ضرورت نہیں — کبھی کبھار کا کامیاب حملہ ہی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ دور تک وار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے خبردار کیا ہے کہ مملکت کا جواب “اتنا ہی سنگین” ہوگا جتنے سنگین یہ حملے تھے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ حملوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ سعودی قیادت میں اتحاد پہلے ہی یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر جوابی کارروائیاں کر چکا ہے۔

ایک اہم سفارتی پیش رفت میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران صورت حال پر گہری تشویش رکھتا ہے اور سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان مذاکرات شروع کرانے میں مدد کے لیے تیار ہے۔ یہ پیش کش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔

یہ خبر محض ایک ولی عہد کی نقل و حرکت کی خبر نہیں — یہ اس بات کا اعلان ہے کہ جنگ اب ریاض کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ جب کسی ملک کا اصل حکمران خود بنکروں میں پناہ لینے پر مجبور ہو جائے تو اس کے معنی واضح ہیں۔ ہوا بازی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پیر کو ریاض ہوائی اڈے کی طے شدہ ساٹھ فیصد پروازیں منسوخ ہوئیں، مالیاتی ضلع کے دفاتر، بین الاقوامی اسکولوں اور سفارت کاروں کو عمارتیں خالی کرنے یا پناہ لینے کی ہدایات دی گئیں۔

پاکستان کے لیے اس خبر کی براہ راست اہمیت ہے۔ ہفتے کے حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور گیارہ زخمی ہوئے تھے، پی آئی اے کی ریاض جانے والی پروازیں معطل ہیں، اور پاکستانی فوج سعودی عرب میں تعینات ہے — ایسے میں مملکت کے اندرونی استحکام کی ہر خبر اسلام آباد کے لیے بھی معنی رکھتی ہے۔

حوثی ترجمان نے سعودی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ ایک بار پھر دہرایا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا عراقچی کی مذاکراتی پیش کش کسی راستے کی طرف لے جاتی ہے، یا سعودی عرب کے “اتنے ہی سنگین” جواب اور ممکنہ امریکی شمولیت کے بعد خطہ مزید کشیدگی کی طرف بڑھتا ہے۔

مزید پڑھیے

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *