Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
کھیل

ریاض میں میزائل الرٹ — رونالڈو کے النصر کا چیمپئنز لیگ میچ ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا

النصر کی شرٹ میں کرسٹیانو رونالڈو چیمپئنز لیگ میچ میں گیند کے ساتھ ایکشن میں

ریاض کے الاول پارک اسٹیڈیم میں پیر کی رات فٹبال کے شائقین کرسٹیانو رونالڈو کو ایکشن میں دیکھنے کے لیے بے تاب تھے، مگر کک آف سے محض پندرہ منٹ پہلے ان کے موبائل فون ایک ایسی وارننگ سے بج اٹھے جس کا کھیل سے کوئی تعلق نہ تھا۔ سعودی عرب کے نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم نے دارالحکومت میں ممکنہ خطرے کا الرٹ جاری کیا تھا، اور اے ایف سی چیمپئنز لیگ ایلیٹ کا النصر بمقابلہ نیفچی فرغانہ میچ تاخیر کا شکار ہو گیا۔

مقررہ وقت کے مطابق میچ رات 9 بج کر 15 منٹ پر شروع ہونا تھا۔ الرٹ جاری ہوتے ہی دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز کو میدان میں آنے سے روک دیا گیا، جبکہ اسٹیڈیم میں اعلان ہوا کہ تماشائی اپنی نشستوں پر ہی رہیں۔ حکام نے اسٹیڈیم خالی کرانے کا حکم نہیں دیا۔ اعلان میں کہا گیا: “پیارے تماشائیو، سول پروٹیکشن کی الرٹ کی وجہ سے آپ سے گزارش ہے کہ پرسکون رہیں اور اپنی نشستوں پر بیٹھے رہیں۔ فکر کی کوئی بات نہیں، میچ چند منٹ میں شروع ہوگا، ان شاء اللہ۔”

کچھ دیر بعد سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ ریاض کی جانب داغا گیا حوثیوں کا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ سول ڈیفنس نے پہلے خطرے کی وارننگ جاری کی اور پھر “خطرہ ٹل گیا” کا دوسرا الرٹ بھیجا، جس کے بعد میچ کو کلیئرنس مل گئی۔

میچ بالآخر مقامی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 15 منٹ پر شروع ہوا — یعنی تقریباً ایک گھنٹے کی تاخیر سے۔ کھیل کے دوران میدان کے باہر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ رونالڈو نے میچ میں النصر کا دوسرا گول کیا اور ان کی ٹیم ہاف ٹائم تک 2-0 کی برتری حاصل کر چکی تھی۔

ایئرپورٹ حملوں کے سائے میں کھیل

یہ تاخیر اس پس منظر میں ہوئی ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے یمن کے حوثی سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہفتے کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میزائل حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے — سعودی حکام کی جاری کردہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں عمرہ زائرین ڈیپارچر لاؤنج میں انتظار کرتے دکھائی دے رہے تھے جب اچانک دھماکے سے چھت کا حصہ گر گیا۔

اتوار کو ایک اور حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد ایئرپورٹ کو کم از کم 17 اکتوبر تک بند رکھنے کا نوٹم جاری کیا گیا۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایئرپورٹ کو “بالکل نشانے پر” میزائل مارا اور جنوب مغرب میں خمیس مشیط ایئر بیس کو ڈرون سے نشانہ بنایا، تاہم سعودی حکام نے دوسرے حملے کی تصدیق نہیں کی۔

حملوں کے اثرات کھیل اور فضائی سفر سے آگے بھی محسوس ہو رہے ہیں۔ ریاض میں جاری ورلڈ پٹرولیم کانگریس متاثر ہوئی ہے اور بی پی اور شیل جیسی بڑی کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ سعودی سول ایوی ایشن کے مطابق ایئرپورٹ کی بندش کے باعث سیکڑوں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

اسٹیڈیم میں بیٹھے ہزاروں تماشائیوں کے فون پر میزائل وارننگ بجنا اس بات کی علامت ہے کہ یہ کشیدگی اب صرف ایئرپورٹس اور فوجی اہداف تک محدود نہیں رہی — وہ ریاض کی روزمرہ زندگی میں داخل ہو چکی ہے۔ سعودی عرب 2034 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والا ہے، اور ایسے میں ایک چیمپئنز لیگ میچ کا سیکیورٹی الرٹ پر رکنا دنیا بھر کے لیے ایک پیغام ہے: میزائل چاہے فضا میں تباہ ہو جائیں، ان کا خوف زمین پر اپنا اثر دکھا رہا ہے۔ رونالڈو جیسے عالمی اسٹار کی موجودگی میں میچ کا تاخیر ہونا اس کہانی کو محض ایک اور فوجی بیان سے بڑھ کر ایک انسانی کہانی بنا دیتا ہے — اور یہی وہ زاویہ ہے جو آنے والے دنوں میں اس بحران کی شدت ناپنے کا پیمانہ بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیے

ریاض ایئرپورٹ پر اتوار کے حملے میں ایک پاکستانی جاں بحق، 11 زخمی — دمام ایئرپورٹ بھی نشانہ بنا

دمام ایئرپورٹ کے قریب پروجیکٹائل گر گیا، مشرقی سعودی عرب میں ڈرون بھی تباہ

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *