
۔
سگریٹ اور ویپنگ کرنے والوں کیلئے خطرے کی گھنٹی، سنگین بیماریوں کا خدشہ کیوں بڑھ رہا ہے؟
اسلام آباد: سگریٹ نوشی کو دنیا بھر میں قابلِ روک تھام بیماریوں اور اموات کی بڑی وجوہات میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ویپنگ اور ای سگریٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ماہرینِ صحت کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کردیا ہے۔ خصوصاً نوجوانوں میں یہ تاثر عام ہوا ہے کہ ویپنگ روایتی سگریٹ کے مقابلے میں مکمل طور پر محفوظ ہے، تاہم طبی شواہد اس تصور کی تائید نہیں کرتے۔
عالمی ادارۂ صحت اور امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق ای سگریٹ اور ویپس بھی صحت کے لیے خطرات رکھتے ہیں اور زیادہ تر مصنوعات میں نکوٹین موجود ہوتی ہے، جو انتہائی نشہ آور مادہ ہے۔ (World Health Organization)
سگریٹ نوشی جسم کے کن حصوں کو متاثر کرتی ہے؟
روایتی سگریٹ کا دھواں ہزاروں کیمیکلز پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں متعدد ایسے مادے شامل ہیں جو انسانی صحت کے لیے زہریلے اور سرطان کا باعث بننے والے ہوسکتے ہیں۔
طویل عرصے تک سگریٹ نوشی پھیپھڑوں کے سرطان کے علاوہ دل کی بیماریوں، فالج، دائمی پھیپھڑوں کی بیماری اور دیگر کئی طبی مسائل کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔
عالمی سطح پر تمباکو نوشی کو پھیپھڑوں کے سرطان سمیت متعدد اقسام کے سرطان سے جوڑا گیا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق تمباکو کا استعمال صحت پر وسیع اثرات مرتب کرتا ہے اور دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سمیت متعدد مہلک امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ (World Health Organization)
یعنی سگریٹ کا نقصان صرف پھیپھڑوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا جسم اس کے اثرات برداشت کرتا ہے۔
کیا ویپنگ واقعی سگریٹ سے محفوظ ہے؟
یہ سوال اس وقت سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ویپنگ کو محفوظ قرار دینا درست نہیں۔ البتہ یہ کہنا بھی سائنسی طور پر درست نہیں کہ ویپنگ کے نقصانات ہر معاملے میں روایتی سگریٹ کے برابر ثابت ہوچکے ہیں۔
امریکی CDC کے مطابق زیادہ تر ای سگریٹس میں نکوٹین موجود ہوتی ہے، جبکہ ویپ کے ایروسول میں دیگر ممکنہ طور پر نقصان دہ مادے بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ نکوٹین خاص طور پر نوجوانوں کے لیے تشویش کا باعث ہے کیونکہ دماغ کی نشوونما جوانی کے ابتدائی برسوں تک جاری رہتی ہے۔ (CDC)
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن بھی واضح کرچکا ہے کہ ای سگریٹس صحت کے لیے نقصان دہ ہیں اور انہیں محفوظ مصنوعات قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم ویپنگ کے تمام طویل مدتی اثرات کی مکمل تصویر سامنے آنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ (World Health Organization)
ویپنگ سے پھیپھڑوں کو کیا خطرہ ہے؟
ویپنگ کے دوران پیدا ہونے والا ایروسول محض ’’پانی کا بھاپ‘‘ نہیں ہوتا۔ اس میں نکوٹین کے علاوہ مختلف کیمیائی مادے اور انتہائی باریک ذرات شامل ہوسکتے ہیں جو سانس کے ذریعے پھیپھڑوں تک پہنچتے ہیں۔
طبی جائزوں میں ویپنگ کو سانس کے مسائل، کھانسی اور سانس کی نالی میں سوزش سمیت متعدد خطرات سے جوڑا گیا ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں میں ویپنگ کے حوالے سے کھانسی، سانس میں خرابی اور دمے کی علامات کے بڑھنے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ (American Lung Association)
اسی وجہ سے ماہرین اس خیال کو مسترد کرتے ہیں کہ اگر سگریٹ کے بجائے ویپ استعمال کیا جائے تو پھیپھڑے مکمل طور پر محفوظ رہتے ہیں۔
کیا ویپنگ سے کینسر ہوسکتا ہے؟
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔
سگریٹ اور کینسر کے درمیان تعلق سائنسی طور پر مضبوط اور کئی دہائیوں سے ثابت شدہ ہے۔ ویپنگ کے معاملے میں طویل مدتی انسانی شواہد ابھی اتنے مضبوط نہیں کہ یہ کہا جاسکے کہ ویپنگ سے کینسر کا خطرہ کتنا بڑھتا ہے۔
تاہم 2025 اور 2026 کی تحقیق نے تشویش میں اضافہ کیا ہے۔
2025 میں شائع ہونے والے ایک منظم جائزے میں محققین نے ایسے شواہد کی نشاندہی کی جو ای سگریٹ کے استعمال کو کینسر کے خطرے سے متعلق حیاتیاتی علامات سے جوڑتے ہیں، اگرچہ مجموعی طور پر کینسر کے خطرے کے بارے میں حتمی انسانی شواہد ابھی محدود قرار دیے گئے۔ (Tobacco Induced Diseases)
ایک اور 2025 کے منظم جائزے میں ویپنگ اور پھیپھڑوں کے سرطان کے درمیان ممکنہ تعلق کی نشاندہی کی گئی، خصوصاً ان افراد میں جو بیک وقت سگریٹ اور ای سگریٹ دونوں استعمال کرتے ہیں۔ تاہم محققین نے واضح کیا کہ موجودہ شواہد سے براہِ راست سبب اور نتیجہ ثابت نہیں کیا جاسکتا اور مزید طویل مدتی تحقیق ضروری ہے۔ (ESMO Open)
2026 کی نئی تحقیق نے تشویش کیوں بڑھا دی؟
2026 میں سامنے آنے والی ایک جامع تحقیقی جائزہ رپورٹ نے ویپنگ کے ممکنہ سرطان پیدا کرنے والے اثرات پر مزید توجہ مرکوز کی۔
محققین نے 2017 سے 2025 تک سامنے آنے والی جانوروں، لیبارٹری اور انسانی کیس رپورٹس سمیت مختلف شواہد کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں ویپنگ کے ساتھ ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصان، سوزش اور ایسے خلیاتی تغیرات کی نشاندہی کی گئی جو سرطان کے عمل سے وابستہ ہوسکتے ہیں۔
محققین نے اس بنیاد پر ویپنگ سے پھیپھڑوں اور منہ کے سرطان کے ممکنہ خطرے پر تشویش ظاہر کی، تاہم یہ بھی واضح کیا گیا کہ جدید ای سگریٹ نسبتاً نئی مصنوعات ہیں، اس لیے طویل عرصے تک بڑی آبادی کا مشاہدہ کرنے والے حتمی مطالعات ابھی محدود ہیں۔ (The Guardian)
اس لیے اس تحقیق کو یہ کہنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا کہ ہر ویپ استعمال کرنے والے شخص کو لازماً کینسر ہوگا، لیکن یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ ویپنگ کو بے ضرر سمجھنا خطرناک مفروضہ ہوسکتا ہے۔
سگریٹ اور ویپ دونوں استعمال کرنا زیادہ خطرناک؟
ماہرین کے لیے سب سے زیادہ تشویش کا ایک پہلو ’’Dual Use‘‘ یعنی بیک وقت سگریٹ اور ویپنگ کا استعمال ہے۔
کچھ حالیہ مطالعات میں ایسے افراد میں صحت کے خطرات زیادہ پائے گئے جو روایتی سگریٹ کے ساتھ ای سگریٹ بھی استعمال کرتے ہیں۔ 2025 کے ایک منظم جائزے میں بھی ای سگریٹ کے استعمال کو قلبی بیماری کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا گیا، اگرچہ یہ خطرہ روایتی سگریٹ کے مقابلے میں مختلف سطح کا ہوسکتا ہے۔ (Tobacco Induced Diseases)
اس کا مطلب یہ ہے کہ سگریٹ نوشی کے ساتھ ویپنگ شروع کرنا لازماً صحت کے لیے دوگنا فائدہ نہیں بلکہ بعض حالات میں اضافی نقصان اور نکوٹین پر زیادہ انحصار کا باعث بن سکتا ہے۔
دل بھی خطرے میں
اکثر افراد ویپنگ اور سگریٹ کے نقصانات کو صرف پھیپھڑوں تک محدود سمجھتے ہیں، لیکن نکوٹین دل اور خون کی نالیوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
نکوٹین دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں اضافہ کرسکتی ہے، جبکہ سگریٹ نوشی مجموعی طور پر قلبی بیماریوں کے خطرے میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔
ویپنگ کے قلبی اثرات پر ہونے والی حالیہ تحقیق میں بھی اس بات کے شواہد سامنے آئے ہیں کہ ای سگریٹ مکمل طور پر بے ضرر نہیں اور قلبی بیماری کے خطرے میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ (Tobacco Induced Diseases)
نوجوانوں کے لیے خطرہ زیادہ کیوں؟
نوجوانوں میں ویپنگ کے پھیلاؤ نے ماہرین کو خاص طور پر تشویش میں مبتلا کیا ہے۔
نکوٹین دماغ کے نشوونما پاتے ہوئے حصوں کو متاثر کرسکتی ہے اور اس کی لت مستقبل میں تمباکو کی دیگر مصنوعات کے استعمال کا راستہ بھی ہموار کرسکتی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اعلیٰ معیار کے وبائیاتی شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ غیر تمباکو نوش نوجوانوں میں ای سگریٹ کا استعمال بعد میں روایتی سگریٹ شروع کرنے کے امکانات میں نمایاں اضافہ کرسکتا ہے۔ (World Health Organization)
امریکی CDC بھی واضح کرتا ہے کہ کوئی بھی تمباکو مصنوعات، بشمول ای سگریٹ، بچوں، نوجوانوں اور نوجوان بالغوں کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ (CDC)
کیا ویپنگ سگریٹ چھوڑنے میں مدد دے سکتی ہے؟
یہ معاملہ بھی سادہ ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
کچھ بالغ سگریٹ نوش افراد ویپنگ کو سگریٹ چھوڑنے کے طریقے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ویپنگ محفوظ ہے۔ طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جو شخص پہلے سے تمباکو استعمال نہیں کرتا اسے ویپنگ شروع نہیں کرنی چاہیے۔
خاص طور پر نوجوانوں اور غیر تمباکو نوش افراد کے لیے ویپنگ کو معمول یا تفریح کی چیز سمجھنا خطرناک ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں بھی خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا
پاکستان میں سگریٹ نوشی پہلے ہی صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ ہے، جبکہ نوجوانوں میں ویپنگ اور دیگر نکوٹین مصنوعات کی دستیابی نے ایک نیا چیلنج پیدا کیا ہے۔
سوشل میڈیا اور مختلف ذائقوں والی ویپ مصنوعات کی مارکیٹنگ نوجوانوں کو ان مصنوعات کی طرف متوجہ کرسکتی ہے۔ اس صورتحال میں صحت کے ماہرین کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو واضح اور سائنسی معلومات فراہم کی جائیں۔
والدین کو بھی چاہیے کہ بچوں اور نوجوانوں میں ویپنگ کو محض ’’فیشن‘‘ یا ’’سگریٹ کا محفوظ متبادل‘‘ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔
اصل خطرہ کیا ہے؟
سائنسی شواہد سے ایک بات واضح ہے: سگریٹ نوشی انتہائی خطرناک ہے اور اس کے نقصانات مضبوط سائنسی شواہد سے ثابت ہیں۔
ویپنگ کے معاملے میں تصویر قدرے مختلف ہے۔ اس کے طویل مدتی اثرات پر تحقیق ابھی جاری ہے، لیکن موجودہ شواہد اسے بے ضرر ثابت نہیں کرتے۔ نکوٹین کی لت، پھیپھڑوں اور قلبی نظام پر ممکنہ اثرات اور سرطان سے متعلق سامنے آنے والے ابتدائی شواہد اس بات کے لیے کافی ہیں کہ ویپنگ کو صحت مند طرز زندگی کا حصہ نہیں سمجھا جائے۔ (CDC)
خاص طور پر سگریٹ اور ویپ دونوں کا استعمال ایک ایسا رویہ ہے جس کے بارے میں موجودہ شواہد مزید احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں۔
ماہرین کا بنیادی پیغام
اگر آپ سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو اسے چھوڑنا صحت کے لیے اہم ترین فیصلوں میں سے ایک ہوسکتا ہے۔ اگر آپ سگریٹ نہیں پیتے تو ویپنگ شروع نہ کرنا زیادہ محفوظ راستہ ہے۔
اور اگر کوئی شخص پہلے ہی سگریٹ اور ویپ دونوں استعمال کررہا ہے تو اسے یہ فرض نہیں کرنا چاہیے کہ ویپنگ نے سگریٹ کے نقصانات ختم کردیئے ہیں۔
خطرے کی اصل گھنٹی یہی ہے کہ سگریٹ کے نقصانات ثابت شدہ ہیں، جبکہ ویپنگ کے طویل مدتی نقصانات کے بارے میں سائنسی تحقیق ابھی مکمل نہیں ہوئی—اور موجودہ شواہد اسے محفوظ قرار دینے کے بجائے احتیاط کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔