Monday، 31 August 2026
ڈالر 278.40 سونا 242,500 KSE-100 82,450
🔴 بریکنگ نیوز
گھریلو مصروفیات سے تھکن اور بوریت؟ اپنی زندگی کو خوشگوار بنانے کے مؤثر طریقے سگریٹ اور ویپنگ کرنے والوں کیلئے خطرے کی گھنٹی، سنگین بیماریوں کا خدشہ کیوں بڑھ رہا ہے؟ حکومت نے پیٹرول سستا کردیا، مگر عوام کو بڑا ریلیف کیوں نہیں ملا؟ جماعت اسلامی کے دھرنے کا دباؤ بھی اہم مضرِ صحت خوراک سے ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان، ماہرین کا فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز فوری نافذ کرنے کا مطالبہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کا پہلا اجلاس آج استنبول میں، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسحاق ڈار پہنچ گئے امریکہ اور ایران کشیدگی: سفارتی راستے کی تلاش، عالمی توانائی منڈیوں پر گہری نظر ایران جنگ کے چھ ماہ مکمل، امریکا اور اسرائیل کے مقاصد کہاں تک کامیاب ہوئے؟ خطے میں طاقت کا نیا توازن دیامر بھاشا ڈیم پر اجلاس: ہر کام کی رفتار تیز، توانائی اور آبپاشی کے سنگ میل قریب گھریلو مصروفیات سے تھکن اور بوریت؟ اپنی زندگی کو خوشگوار بنانے کے مؤثر طریقے سگریٹ اور ویپنگ کرنے والوں کیلئے خطرے کی گھنٹی، سنگین بیماریوں کا خدشہ کیوں بڑھ رہا ہے؟ حکومت نے پیٹرول سستا کردیا، مگر عوام کو بڑا ریلیف کیوں نہیں ملا؟ جماعت اسلامی کے دھرنے کا دباؤ بھی اہم مضرِ صحت خوراک سے ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان، ماہرین کا فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز فوری نافذ کرنے کا مطالبہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کا پہلا اجلاس آج استنبول میں، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسحاق ڈار پہنچ گئے امریکہ اور ایران کشیدگی: سفارتی راستے کی تلاش، عالمی توانائی منڈیوں پر گہری نظر ایران جنگ کے چھ ماہ مکمل، امریکا اور اسرائیل کے مقاصد کہاں تک کامیاب ہوئے؟ خطے میں طاقت کا نیا توازن دیامر بھاشا ڈیم پر اجلاس: ہر کام کی رفتار تیز، توانائی اور آبپاشی کے سنگ میل قریب
بین الاقوامی 29 August 2026 - 7:47 AM 4 منٹ مطالعہ

ایران جنگ کے چھ ماہ مکمل، امریکا اور اسرائیل کے مقاصد کہاں تک کامیاب ہوئے؟ خطے میں طاقت کا نیا توازن

<p>تہران/واشنگٹن: امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی مہم کو چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں، لیکن جنگ کے نتائج اب بھی واضح طور پر کسی ایک…</p>

تہران/واشنگٹن: امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی مہم کو چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں، لیکن جنگ کے نتائج اب بھی واضح طور پر کسی ایک فریق کے حق میں نظر نہیں آتے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے تازہ جائزے کے مطابق جنگ نے مشرق وسطیٰ کو ضرور تبدیل کیا ہے، لیکن وہ نتائج حاصل نہیں ہوئے جن کی توقع اس فوجی مہم کے منصوبہ سازوں نے کی تھی۔

چھ ماہ کے دوران ایران کو شدید عسکری اور معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، مگر اس کے باوجود ایرانی سیاسی اور عسکری نظام مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ دوسری طرف امریکا اور اسرائیل کو بھی ایک طویل اور مہنگے تنازع کا سامنا ہے۔

ایران کی قیادت کیوں برقرار رہی؟

جنگ کے آغاز میں یہ توقع ظاہر کی گئی تھی کہ مسلسل فوجی دباؤ ایرانی سیاسی نظام کو شدید عدم استحکام سے دوچار کرسکتا ہے۔ لیکن چھ ماہ بعد ایران کی قیادت نے اپنے اندرونی اختلافات کے باوجود ریاستی نظام کو برقرار رکھا ہے۔

اے پی کے مطابق ایرانی قیادت اب ایک ایسے سخت گیر حلقے کے گرد زیادہ مضبوطی سے جمع ہوگئی ہے جس میں فوجی کمانڈروں اور مذہبی رہنماؤں کا اہم کردار ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ نے ایرانی ریاست کو کمزور کرنے کے بجائے بعض معاملات میں اسے مزید سخت گیر بنانے کا اثر بھی پیدا کیا۔

ایران کی معیشت پر شدید دباؤ

جنگ کا سب سے نمایاں اثر ایرانی معیشت پر پڑا ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکی پابندیوں، بحری ناکہ بندی اور جنگی حالات نے ایران کی معیشت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق ملک کی بیرونی تجارت میں تقریباً 35 فیصد کمی ہوئی ہے، جبکہ ملک میں افراط زر بھی انتہائی بلند سطح پر پہنچ چکا ہے۔

ایران نے اس کے باوجود تیل کی برآمدات جاری رکھنے کی کوشش کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایک مختصر اور ناکام جنگ بندی کے دوران ایران تقریباً 90 ملین بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا۔

آبنائے ہرمز اصل میدان بن گیا

اس جنگ کا سب سے خطرناک معاشی پہلو آبنائے ہرمز ہے۔

یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ایران اور امریکا دونوں اس کے حوالے سے مختلف دعوے کررہے ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول ہے، جبکہ امریکا اسے کھلا رکھنے اور بحری نقل و حرکت بحال رکھنے کی بات کرتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق آبنائے میں جہازوں کی سرگرمی نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔

اگر یہ صورتحال طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران یا خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تیل، شپنگ اور خوراک کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

کیا جنگ ختم ہونے کے قریب ہے؟

اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے۔

ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں کیا، لیکن تہران نے واضح کیا ہے کہ اقتصادی دباؤ اور بحری ناکہ بندی ختم کیے بغیر کسی بڑے سفارتی معاہدے کی راہ ہموار نہیں ہوسکتی۔

دوسری جانب واشنگٹن نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔

یہ متضاد اقدامات بتاتے ہیں کہ سفارت کاری کا دروازہ موجود ضرور ہے، لیکن دونوں فریق ابھی بنیادی شرائط پر ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔

چھ ماہ بعد اصل نتیجہ کیا نکلا؟

چھ ماہ کی جنگ نے یہ ثابت کیا ہے کہ جدید فوجی طاقت کے باوجود کسی بڑے ملک کو صرف فضائی حملوں یا اقتصادی پابندیوں کے ذریعے فوری طور پر سیاسی طور پر زیر کرنا آسان نہیں۔

ایران کو بھاری نقصان پہنچا ہے، لیکن اس کا ریاستی ڈھانچہ برقرار ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا، مگر جنگ کا سیاسی نتیجہ ابھی حتمی نہیں۔

دوسری جانب خطے میں نئے اتحاد اور نئی صف بندیاں پیدا ہوئی ہیں۔

پاکستان کے لیے خطرہ اور موقع

ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد، خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط اور عالمی تیل کی منڈی سے وابستگی اسلام آباد کو اس تنازع سے براہ راست متاثر کرتی ہے۔

جنگ کے مزید طول پکڑنے سے پاکستان کے لیے درآمدی تیل، کرنسی، مہنگائی اور تجارتی لاگت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔

اسی لیے پاکستان کے مفاد میں یہی ہے کہ وہ خطے میں سفارتی حل، جنگ بندی اور علاقائی استحکام کی حمایت جاری رکھے۔

نتیجہ

چھ ماہ بعد ایران جنگ ایک ایسے مقام پر کھڑی ہے جہاں عسکری کامیابی کو سیاسی فتح میں تبدیل کرنا اب بھی امریکا اور اسرائیل کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

ایران شدید معاشی دباؤ میں ہے، لیکن اس کی ریاستی مشینری برقرار ہے۔ اگر سفارت کاری کامیاب نہ ہوئی تو آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کی منڈی مستقبل کے بحران کا مرکز بن سکتی ہے۔

اس جنگ کا اصل فیصلہ شاید میدان جنگ سے زیادہ مذاکرات کی میز پر ہوگا۔

101Urdu team

اپنی رائے دیں