
آپ کے فراہم کردہ متن کو روان، مضبوط اور اخباری انداز میں ترتیب دے کر خبر کی شکل میں یوں لکھا جا سکتا ہے:
مضرِ صحت خوراک سے ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان، ماہرین کا فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز فوری نافذ کرنے کا مطالبہ
اسلام آباد: صحت کے ماہرین نے حکومت سے الٹرا پروسیسڈ غذاؤں اور مشروبات پر فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر صحت بخش غذاؤں کے استعمال میں کمی لا کر نہ صرف عوام کو سنگین بیماریوں سے بچایا جاسکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی بڑا مالی فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔
پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) نے عوامی صحت کے ماہرین اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ہمراہ حکومتِ پاکستان پر زور دیا کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں اور مشروبات پر لازمی فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ کو فوری طور پر تیز کیا جائے، تاکہ صارفین کو مصنوعات کے مضر صحت اجزا کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جاسکیں، غیر صحت بخش غذاؤں کے استعمال میں کمی لائی جا سکے اور عوام کو بہتر غذائی انتخاب میں مدد ملے۔
ماہرین کے مطابق ایسے الٹرا پروسیسڈ غذائی و مشروبات کی مصنوعات پر اردو زبان میں سیاہ آکٹاگون (آٹھ کونوں) کی شکل کے واضح وارننگ لیبلز لازمی قرار دیے جانے چاہئیں جن میں عالمی ادارۂ صحت کی تجویز کردہ مقررہ حد سے زیادہ چینی، سوڈیم یا سیر شدہ چکنائی موجود ہو۔ اس کے علاوہ ایسی مصنوعات پر بھی واضح وارننگ دی جانی چاہیے جن میں نان شوگر سویٹنرز یعنی مصنوعی یا غیر چینی مٹھاس پیدا کرنے والے اجزا شامل ہوں۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ وارننگ لیبلز کا ڈیزائن پاکستان کے مقامی حالات، صارفین کی ضروریات اور کم خواندگی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے سادہ، واضح اور نمایاں ہونا چاہیے، تاکہ صارفین بغیر پیچیدہ غذائی معلومات پڑھے یہ سمجھ سکیں کہ کوئی مخصوص مصنوعات صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
فوڈ اینڈ نیوٹریشن پالیسی کے ماہر منور حسین نے کہا کہ پاکستان میں غذائی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور صارفین، بالخصوص بچے اور نوجوان، پروسیسڈ اور الٹرا پروسیسڈ غذاؤں اور مشروبات کے بڑھتے ہوئے استعمال سے متاثر ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر صحت بخش غذاؤں کا بڑھتا ہوا استعمال مستقبل میں بیماریوں کے بوجھ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جس کے نتیجے میں صحت کے شعبے پر اخراجات بڑھنے کے ساتھ ساتھ ملکی پیداواری صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
ماہرین نے زور دیا کہ حکومت کو فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ صارفین کو مصنوعات کے ممکنہ نقصانات سے آگاہ کرنا صحت عامہ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت پر بیماریوں اور علاج کے بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
صحت کے ماہرین کے مطابق اگر غیر صحت بخش غذاؤں کے استعمال میں مؤثر کمی لائی جائے تو دل کے امراض، ذیابیطس اور دیگر غذائی عوامل سے جڑی بیماریوں کے بوجھ کو کم کیا جاسکتا ہے، جس سے علاج کے اخراجات اور بیماری کے باعث ہونے والے پیداواری نقصان میں بھی کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی صحت کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ کا عمل فوری مکمل کیا جائے تاکہ پاکستانی صارفین کو صحت مند اور باخبر غذائی انتخاب کا مؤثر حق حاصل ہوسکے۔
