Sunday, 20 September 2026
سیاست

جماعت اسلامی کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ، حکومت سے مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار

20 ستمبر 2026 | تازہ ترین پاکستان نیوز

جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر اتوار 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے پانچویں دور کے بغیر نتیجہ ختم ہونے کے ایک دن بعد سامنے آیا۔ حکومت نے سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ جب تک لیوی واپس نہیں لی جاتی، احتجاج ضروری ہے۔

مذاکرات کا پانچواں دور کہاں اور کن کے درمیان ہوا؟

ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس کے مطابق مذاکرات کا پانچواں دور ہفتہ 19 ستمبر کو لاہور میں جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں ہوا۔ حکومتی وفد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور پنجاب کے وزیر خواجہ سلمان رفیق شامل تھے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر لیاقت بلوچ، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، امیر کے معاون خصوصی عمیر ادریس، امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی نے شرکت کی۔

رپورٹس کے مطابق حکومت اور جماعت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ 7 ستمبر سے جاری تھا۔ اس دوران جماعت اسلامی 16 اگست سے لاہور، پشاور، کراچی اور ملک کے درجنوں دیگر مقامات پر پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنے بھی دیتی رہی۔

حکومت کا مؤقف

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق حکومتی وفد نے جماعت اسلامی سے کہا کہ سیکیورٹی خطرات کے باعث لانگ مارچ کو مؤخر کیا جائے۔ حکومتی نمائندوں نے مذاکرات میں یہ بھی کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ اسی دوران حکومتی ٹیم نے آئی ایم ایف کے دباؤ کا حوالہ دیا اور بتایا کہ آئی ایم ایف کا ایک وفد جلد پاکستان کا دورہ کرنے والا ہے۔

جماعت اسلامی کا مؤقف

جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ لانگ مارچ اس وقت تک ضروری رہے گا جب تک عوام پر عائد لیوی واپس نہیں لی جاتی۔ پاکستان ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق جماعت نے واضح کیا کہ وہ محض یقین دہانیوں پر انحصار نہیں کرے گی بلکہ ٹھوس اقدامات چاہتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے ڈان کے مطابق کہا کہ “پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا” اور یہ کہ اگر حکومت مذاکرات پر توجہ نہیں دے گی تو اسے عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے ایندھن اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کو اشیائے ضروریہ کی مہنگائی اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا۔

مارچ کا آغاز کراچی سے

جماعت اسلامی نے اعلان کیا تھا کہ ہفتے کو کراچی میں بڑا اجتماع ہوگا اور اتوار کو حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں “سپر لانگ مارچ” روانہ ہوگا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی کینٹ اسٹیشن پر کارکنوں سے خطاب کیا اور پھر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو یہ احتجاج حکومت کے خاتمے کی تحریک میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسلام آباد پہنچنے پر صورتحال کے قابو میں رہنے کی کوئی ضمانت نہیں، اور اگر تحریک کو دبانے کی کوشش کی گئی تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ یہ بیانات جماعت اسلامی کے سربراہ کے ہیں اور انہیں انہی سے منسوب سمجھا جانا چاہیے۔

اسلام آباد میں سیکیورٹی انتظامات

عرب نیوز پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی انتظامیہ نے ریڈ زون کو شپنگ کنٹینرز لگا کر بند کر دیا ہے۔ ریڈ زون میں ملک کی اہم انتظامی، قانون ساز اور عدالتی عمارتیں اور کئی غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔ اسلام آباد پولیس حکام نے امن و امان کی صورتحال کا جائزہ بھی لیا۔

پیٹرولیم لیوی کیا ہے اور تنازع کیوں ہے؟

پیٹرولیم لیوی ایندھن پر عائد ایک ٹیکس ہے جو وفاقی حکومت کی آمدن کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پیٹرول پر مجموعی ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی رقم 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر بتائی گئی ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے بجلی، ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش سب مہنگے ہو جاتے ہیں، جبکہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مالی پابندیوں اور محصولات کے اہداف کا حوالہ دیتی ہے۔

پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کا احتجاج اور جماعت اسلامی

اسی دوران پاکستان تحریک انصاف بھی 27 ستمبر کو اپنے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر احتجاج کا اعلان کر چکی ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے ڈان کے مطابق کہا کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے اور پی ٹی آئی کے مظاہروں کو روکنے کے لیے کنٹینر نہیں لگانے چاہییں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے پرامن احتجاج کے حق کی حمایت کرتی ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے پر حکومت اور جماعت کے درمیان دوبارہ رابطہ ہوتا ہے یا نہیں۔ حکومت نے اب تک کسی رسمی تجویز کے ذریعے لیوی ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا، جبکہ جماعت اسلامی نے مطالبات تسلیم ہونے تک مارچ جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ آئی ایم ایف وفد کے دورے اور 27 ستمبر کے پی ٹی آئی احتجاج کی وجہ سے آنے والے دن سیاسی طور پر اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

شہریوں کو چاہیے کہ صورتحال کے بارے میں غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین کرنے کے بجائے معتبر ذرائع سے تازہ ترین معلومات لیتے رہیں اور سفر کرتے ہوئے ممکنہ ٹریفک اور راستوں کی بندش کو مدنظر رکھیں۔

خلاصہ

حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات کے پانچویں دور میں پیٹرولیم لیوی کے خاتمے پر اتفاق نہ ہو سکا۔ حکومت نے سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی، جبکہ جماعت اسلامی نے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے 20 ستمبر کو کراچی سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا۔

نوٹ: اس خبر میں شامل مؤقف اور بیانات متعلقہ فریقین سے منسوب ہیں۔

تصویر: علامتی تصویر، اسلام آباد — Wikimedia Commons، لائسنس CC BY-SA۔

آخری اپ ڈیٹ: 20 ستمبر 2026

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *