20 ستمبر 2026 | تازہ ترین پاکستان نیوز
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کو اتوار 20 ستمبر کو لاہور میں حراست میں لے لیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے حکم پر انہیں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 (ایم پی او) کے تحت 30 دن کے لیے کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا ہے۔ یہ گرفتاری پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد مارچ سے ٹھیک ایک ہفتہ پہلے ہوئی ہے، جس کے باعث سیاسی ماحول میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
حراست کے احکامات میں کیا لکھا ہے؟
ڈان کے مطابق 20 ستمبر کے حکم نامے کی نقل موجود ہے، جس میں ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز نے علیمہ خان اور ایک اور شخص محمد امیر کو 30 دن کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔ حکم نامے کے مطابق دونوں کی تحویل سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کے سپرد ہوگی۔ ان افراد کو یہ حق بھی دیا گیا ہے کہ وہ اس حکم کے خلاف صوبائی حکومت کو نمائندگی (ریپریزنٹیشن) جمع کرا سکتے ہیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکم نامے میں کہا گیا کہ سول لائنز ڈویژن کے ایس پی اور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس برانچ کے انچارج نے شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 30 روزہ حراست کی سفارش کی تھی۔ رائٹرز کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس میں ضلعی انتظامیہ کے نوٹیفکیشن کا یہ مؤقف بھی نقل کیا گیا ہے کہ انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق ان کی کسی عوامی مقام پر موجودگی عوامی تحفظ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ یہ مؤقف ضلعی انتظامیہ کا ہے، جبکہ پی ٹی آئی اسے سیاسی دباؤ قرار دیتی ہے۔
گرفتاری کیسے ہوئی؟
آج نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ علیمہ خان لاہور کے علاقے اپر مال میں اپنے گھر سے جم جا رہی تھیں کہ لٹن روڈ تھانے کی پولیس نے انہیں حراست میں لیا۔ ان کی گاڑی لٹن روڈ تھانے میں کھڑی کی گئی جبکہ انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔ الجزیرہ کے مطابق لاہور کی ایک سینئر پولیس افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر گرفتاری کی تصدیق کی۔ رائٹرز کے مطابق پی ٹی آئی کے ترجمان نے بھی گرفتاری کی تصدیق کی۔
وکیل اور اہل خانہ کا مؤقف
علیمہ خان کے وکیل رانا مدثر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ لاہور میں ان کے خلاف درج تمام مقدمات میں انہیں ضمانت مل چکی تھی، اس کے باوجود انہیں حراست میں لیا گیا۔ وکیل کا الزام ہے کہ انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا اور ابتدا میں کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ یہ وکیل کا مؤقف ہے، جسے آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
علیمہ خان کے بیٹے شہریز خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ ان کی والدہ صبح گھر سے نکلنے کے بعد “اغوا” کر لی گئیں اور خاندان کو ان کی خبر نہیں مل رہی۔ انہوں نے حکومت سے ان کا ٹھکانہ ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا۔ بعد میں سرکاری حکم نامے اور رپورٹس سے ان کی کوٹ لکھپت جیل منتقلی کی تصدیق سامنے آئی۔ پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے بھی اس اقدام کی مذمت کی۔ عمران خان کی دوسری بہن نورین نیازی نے سوال اٹھایا کہ حکام خواتین کو گرفتار کرنے سے کیوں “خوفزدہ” ہیں۔ عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری نے بھی اس گرفتاری کو “انتہائی قابل مذمت” قرار دیا۔
ایم پی او کیا ہے؟
پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 مقامی انتظامیہ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ امن عامہ کو خطرہ سمجھے جانے والے افراد کو محدود مدت کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم دے۔ ڈان کے مطابق یہ قانون ایسے احکامات پر عدالتی نظرثانی کو محدود بھی کرتا ہے۔ حکومتیں عموماً اسے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی اقدام کے طور پر جواز دیتی ہیں، جبکہ سیاسی جماعتیں اور انسانی حقوق کے حلقے اکثر اس پر سیاسی استعمال کے الزامات اور تحفظات ظاہر کرتے رہے ہیں۔
27 ستمبر کا احتجاج اور حکومتی مؤقف
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جس کا مقصد پارٹی کے مطابق عمران خان کی رہائی کا مطالبہ اور آئین کی بالادستی کے لیے عوام کو متحرک کرنا ہے۔ عمران خان 2023 سے جیل میں ہیں۔
رائٹرز کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کو کہا تھا کہ حکومت اس مارچ کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق پارٹی تصادم یا تشدد نہیں چاہتی اور اپنے مطالبات سیاسی طریقے سے آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے ڈان کے مطابق ملک بھر میں کریک ڈاؤن اور گھروں پر چھاپوں کے الزامات بھی لگائے ہیں۔
سیاسی صورتحال پر ممکنہ اثرات
مبصرین کے مطابق احتجاج سے ایک ہفتہ قبل ایک اہم پارٹی رہنما اور بانی کی بہن کی حراست دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی بڑھا سکتی ہے۔ حکومت اسے امن و امان کے لیے احتیاطی اقدام قرار دے رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی اسے احتجاج کو کمزور کرنے کی کوشش کہہ رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بات پر نظر رہے گی کہ علیمہ خان کی حراست کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیا رخ اختیار کرتی ہے، صوبائی حکومت ان کی نمائندگی پر کیا فیصلہ کرتی ہے، اور 27 ستمبر سے پہلے سیاسی رابطوں یا مزید گرفتاریوں کی کیا صورتحال بنتی ہے۔
اسی روز جماعت اسلامی بھی پیٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر چکی ہے، جس سے دارالحکومت میں آنے والے دنوں میں سیاسی سرگرمیوں میں اضافے کا امکان ہے۔
خلاصہ
علیمہ خان کو 20 ستمبر کو لاہور میں ایم پی او کے تحت 30 دن کے لیے کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ نے امن و امان اور عوامی تحفظ کو وجہ قرار دیا، جبکہ ان کے وکیل، اہل خانہ اور پی ٹی آئی رہنما اس اقدام کو غیر منصفانہ اور سیاسی دباؤ قرار دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کا احتجاج اب سیاسی منظرنامے کا مرکزی نکتہ بن گیا ہے۔
نوٹ: اس رپورٹ میں شامل دعوے اور مؤقف متعلقہ فریقین (ضلعی انتظامیہ، پی ٹی آئی، اہل خانہ اور وکیل) سے منسوب ہیں۔
تصویر: علامتی تصویر، مینار پاکستان، لاہور — Wikimedia Commons، لائسنس CC BY-SA 3.0۔
آخری اپ ڈیٹ: 20 ستمبر 2026
قارئین کے تبصرے (0)