20 ستمبر 2026 | تازہ ترین پاکستان نیوز
بجلی صارفین کے لیے ایک اور مہنگائی کی خبر سامنے آئی ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے اگست کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 1.73 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرائی ہے۔ نیپرا اس درخواست پر 29 ستمبر کو سماعت کرے گی۔ رپورٹس کے مطابق اگر یہ اضافہ منظور ہو گیا تو صارفین پر تقریباً 29.5 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
یہ بات واضح رہے کہ یہ فی الحال صرف ایک درخواست ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔ نیپرا سماعت کے بعد ہی طے کرے گی کہ اضافہ منظور کیا جائے، کم کیا جائے یا مسترد کر دیا جائے۔
سی پی پی اے کی درخواست میں کیا کہا گیا ہے؟
درخواست کے مطابق اگست کے مہینے میں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کو 14.464 ارب یونٹ بجلی فراہم کی گئی، جس کی اوسط لاگت 8.82 روپے فی یونٹ رہی۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق اگست میں صارفین سے ریفرنس فیول کاسٹ کے طور پر تقریباً 7.1 روپے فی یونٹ وصول کی گئی تھی، جبکہ حقیقی لاگت تقریباً 8.8 روپے فی یونٹ رہی۔ سی پی پی اے کا مؤقف ہے کہ اس فرق یعنی تقریباً 1.7 روپے فی یونٹ کا بوجھ صارفین کو منتقل کیا جائے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق تجویز کردہ اضافہ کے-الیکٹرک کے صارفین پر بھی لاگو ہوگا، یعنی کراچی کے شہری بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم حتمی اطلاق کا انحصار نیپرا کے فیصلے پر ہوگا۔
فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کیا ہوتی ہے؟
پاکستان میں ہر مالی سال کے آغاز پر نیپرا بجلی کی پیداوار کی متوقع لاگت کی بنیاد پر ایک ریفرنس فیول کاسٹ مقرر کرتی ہے۔ اگر کسی مہینے میں بجلی بنانے پر اصل لاگت اس ریفرنس سے زیادہ آ جائے تو بجلی کمپنیاں یہ فرق آئندہ بلوں میں صارفین سے وصول کرنے کی درخواست دیتی ہیں۔ اسی نظام کو فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کہا جاتا ہے۔ اگر لاگت ریفرنس سے کم ہو تو صارفین کو ریلیف بھی مل سکتا ہے۔
منظور شدہ ایڈجسٹمنٹ صارفین کے بل میں الگ سے ظاہر کی جاتی ہے، اس لیے بہت سے صارفین اسے بل میں “ایف سی اے” کے نام سے دیکھتے ہیں۔
اگست میں بجلی کہاں سے پیدا ہوئی؟
سی پی پی اے کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں مجموعی بجلی کی پیداوار میں پن بجلی کا حصہ 37.84 فیصد رہا۔ مقامی کوئلے سے 10.88 فیصد اور درآمدی کوئلے سے 15.59 فیصد بجلی پیدا ہوئی۔ فرنس آئل کا حصہ 2.15 فیصد، مقامی گیس کا 7.04 فیصد اور درآمدی ایل این جی کا 8.48 فیصد رہا۔
لاگت کے لحاظ سے فرق نمایاں ہے۔ درخواست کے مطابق فرنس آئل سے بننے والی بجلی کی لاگت 45.25 روپے فی یونٹ اور درآمدی ایل این جی سے بننے والی بجلی کی لاگت 45.92 روپے فی یونٹ رہی۔ اس کے مقابلے میں مجموعی اوسط لاگت 8.82 روپے فی یونٹ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگے ایندھن کا تھوڑا سا استعمال بھی مجموعی لاگت پر اثر ڈال سکتا ہے۔
پیداواری لاگت میں اضافے کی وجوہات
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اگست 2026 میں بجلی کی پیداوار میں گزشتہ سال اگست کے مقابلے میں 5.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اس کی لاگت میں 37.63 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ آر ایل این جی سے بننے والی بجلی کی لاگت میں 111 فیصد اضافہ ہے، جبکہ جوہری بجلی کی لاگت میں 43.3 فیصد اور درآمدی کوئلے سے بجلی کی لاگت میں 21.4 فیصد اضافہ بھی ہوا۔
اسی رپورٹ کے مطابق اگست میں مجموعی طور پر 14,943 گیگا واٹ آور بجلی پیدا ہوئی جس پر تقریباً 149.6 ارب روپے لاگت آئی۔
پچھلے مہینے کی ایڈجسٹمنٹ
ڈان کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایک ماہ قبل نیپرا نے 0.7503 روپے فی یونٹ کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ منظور کی تھی۔ یوں اگر اس بار بھی درخواست کے مطابق اضافہ منظور ہوتا ہے تو مسلسل دو مہینوں میں صارفین کو بلوں میں اضافی رقم ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق درخواست میں ڈسکوز نے گزشتہ ایڈجسٹمنٹس کی مد میں 10.097 ارب روپے اور آر ایل این جی ریٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 10.617 ارب روپے واپس کرنے یا چھوڑنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
صارفین پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
ایک عام گھریلو صارف کے لیے 1.73 روپے فی یونٹ کا مطلب یہ ہے کہ جتنے یونٹ استعمال ہوں گے، بل میں اسی حساب سے رقم بڑھے گی۔ مثال کے طور پر 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارف کے بل میں تقریباً 519 روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ 500 یونٹ استعمال کرنے والے صارف کے لیے یہ اضافہ تقریباً 865 روپے بنتا ہے۔ یہ محض سادہ حساب ہے؛ اصل بل میں ٹیکس اور دیگر چارجز کی وجہ سے حتمی رقم مختلف ہو سکتی ہے، اور یہ بھی ضروری نہیں کہ نیپرا پوری رقم منظور کرے۔
ایسے وقت میں جب پہلے ہی پیٹرول، ٹرانسپورٹ کرایوں اور بجلی کے بلوں پر عوامی بے چینی پائی جاتی ہے، بجلی کی قیمت میں کوئی بھی اضافہ گھریلو بجٹ پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ کاروباری اور صنعتی حلقے بھی عموماً توانائی کی بڑھتی لاگت کو پیداواری اخراجات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔
29 ستمبر کی سماعت کیوں اہم ہے؟
نیپرا کی سماعت میں سی پی پی اے اپنا مؤقف پیش کرے گی، جبکہ عوام اور متعلقہ فریقین کو بھی اپنی رائے دینے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے بعد ریگولیٹر فیصلہ محفوظ کر کے حتمی حکم جاری کرتا ہے۔ اسی حکم سے طے ہوگا کہ اضافہ کتنا ہوگا، کن صارفین پر لاگو ہوگا اور کن مہینوں کے بلوں میں وصول کیا جائے گا۔ اس لیے سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کہ بجلی 1.73 روپے مہنگی ہو چکی ہے، قبل از وقت ہے۔
صارفین کیا کر سکتے ہیں؟
- غیر مصدقہ خبروں کے بجائے نیپرا کے حتمی فیصلے کا انتظار کریں۔
- اپنے بل میں یونٹس کے استعمال پر نظر رکھیں، خاص طور پر زیادہ کھپت کے اوقات میں۔
- غیر ضروری بجلی کا استعمال کم کرنے اور کم کھپت والے آلات اپنانے پر غور کریں۔
- بل ملنے پر فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد کو الگ سے دیکھیں اور کسی غلطی کی صورت میں اپنی ڈسکو سے رجوع کریں۔
خلاصہ
سی پی پی اے نے اگست کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 1.73 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست دی ہے، جس پر نیپرا 29 ستمبر کو سماعت کرے گی۔ منظوری کی صورت میں صارفین پر تقریباً 29.5 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا اور درخواست کے مطابق اس کا اطلاق کے-الیکٹرک صارفین پر بھی ہوگا۔ حتمی رقم اور اطلاق کا فیصلہ نیپرا کی سماعت کے بعد سامنے آئے گا۔
تصویر: علامتی تصویر، بجلی کے کھمبے — Wikimedia Commons، لائسنس CC BY-SA 3.0۔
آخری اپ ڈیٹ: 20 ستمبر 2026
قارئین کے تبصرے (0)