روِی شاستری کا تلخ مشاہدہ: افغان کرکٹ، دوستی اور خالی اسٹیڈیم
سابق بھارتی کرکٹر اور کرکٹ کے معروف مبصر روی چندرن ایشون نے حال ہی میں ایک ایسا بیان دیا ہے جو کرکٹ کی دنیا میں ایک بار پھر بحث کا باعث بن گیا ہے۔ ایشون نے کہا کہ افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف میچ کو زبردستی دوستانہ مقابلے میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے بقول دوستی اچھی بات ہے، لیکن میدان میں نہیں۔ باقی ٹیموں کے خلاف جو جوش و جذبہ افغان کھلاڑیوں میں نظر آتا ہے، وہ بھارت کے مقابلے میں غائب ہو جاتا ہے۔
ایشون کا یہ مشاہدہ صرف جذباتی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی لگتا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ بھارت میں ڈومیسٹک کرکٹ کے میچز میں بھی اسٹیڈیم بھرے رہتے ہیں، لیکن افغانستان کے خلاف ٹی20 میچ میں آدھا سے زیادہ اسٹیڈیم خالی تھا۔ یہ منظر خود بتاتا ہے کہ بھارتی کرکٹ کے شائقین اس طرح کی سیریز میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔ جب نتیجہ پہلے سے طے شدہ لگے تو لوگ ٹکٹ پر پیسے کیوں خرچ کریں؟
حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کرکٹ نے گزشتہ دہائی میں حیرت انگیز پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے بڑی ٹیموں کو شکست دی ہے، عالمی کپ میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے اور دنیا بھر میں احترام حاصل کیا ہے۔ لیکن جب بات بھارت کی آتی ہے تو معاملہ بدل جاتا ہے۔ شاید سیاسی، تاریخی یا جذباتی عوامل کچھ کردار ادا کرتے ہوں، یا شاید صرف یہ کہ بھارتی ٹیم کی طاقت اتنی زیادہ ہے کہ افغان کھلاڑی ذہنی طور پر ہار مان لیتے ہیں۔ ایشون کا کہنا درست لگتا ہے کہ جیت کی امید کم ہو تو بھی کم از کم مکمل جذبے سے کھیلنا چاہیے۔ کرکٹ صرف نتیجہ نہیں، مقابلے کی روح بھی ہے۔
خالی اسٹیڈیم ایک سنگین پیغام ہے۔ جدید کرکٹ صرف کھلاڑیوں کا کھیل نہیں رہی، یہ شائقین، ٹی وی ریٹنگز اور بزنس کا کھیل بھی ہے۔ اگر سیریز پہلے سے غیر مقابلہ جاتی محسوس ہو تو لوگ گھر بیٹھ کر دوسرے چینل دیکھیں گے یا بالکل نہیں دیکھیں گے۔ افغانستان کو اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے بھارت کے خلاف بھی وہی شدت دکھانی ہوگی جو وہ آسٹریلیا، انگلینڈ یا پاکستان کے خلاف دکھاتے ہیں۔
ایشون کا بیان شاید کچھ لوگوں کو سخت لگے، لیکن یہ کرکٹ کی سچائی کو چھوتا ہے۔ دوستی میدان سے باہر اچھی ہے، میدان کے اندر صرف مقابلہ ہونا چاہیے۔ اگر افغانستان واقعی عالمی سطح کی ٹیم بننا چاہتی ہے تو اسے بھارت کے خلاف بھی جیت کی بھوک دکھا کر ثابت کرنا ہوگا۔ ورنہ خالی اسٹیڈیم اور سرد میچز ہی ان کی قسمت بنے رہیں گے۔
قارئین کے تبصرے (0)