Sunday, 20 September 2026

یٹرولیم لیوی کے خلاف جماعتِ اسلامی کا احتجاج شدت اختیار کر گیا، حکومت سے فوری خاتمے کا مطالبہ




اسلام آباد: ملک بھر میں پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعتِ اسلامی کی احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ جماعتِ اسلامی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام پر عائد پیٹرولیم لیوی فوری طور پر ختم کی جائے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی لائی جائے اور مہنگائی سے متاثرہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔

جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے مختلف احتجاجی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکومت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو مکمل ریلیف منتقل نہیں کر رہی، جبکہ پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز کے ذریعے شہریوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

پیٹرولیم لیوی کیا ہے؟

پیٹرولیم لیوی وہ رقم ہے جو حکومت ہر لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر وصول کرتی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ رقم قومی آمدن، ترقیاتی اخراجات اور مالیاتی اہداف کے لیے ضروری ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس لیوی کی وجہ سے ایندھن مہنگا ہوتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔

جماعتِ اسلامی کے مطالبات

جماعتِ اسلامی نے حکومت کے سامنے کئی مطالبات رکھے ہیں، جن میں شامل ہیں:

– پیٹرولیم لیوی کا فوری خاتمہ۔
– پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی۔
– مہنگائی میں کمی کے لیے مؤثر اقدامات۔
– بجلی کے نرخ کم کرنے اور مہنگے آئی پی پیز (IPPs) کے معاہدوں پر نظرثانی۔
– عوام کو حقیقی معاشی ریلیف فراہم کرنا۔

احتجاج کا دائرہ وسیع

جماعتِ اسلامی کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں دھرنے، ریلیاں اور احتجاجی اجتماعات جاری ہیں۔ پارٹی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، جس میں ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی شامل ہو سکتا ہے۔

حکومت کا مؤقف

حکومت کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن ملکی مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم ہے اور اس میں بڑی کمی سے بجٹ اور بین الاقوامی مالیاتی وعدوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف معاشی اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

عوام کی رائے

بہت سے شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف سفری اخراجات بڑھے ہیں بلکہ اشیائے ضروریہ، سبزیوں، پھلوں اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔ کاروباری طبقہ بھی بڑھتی ہوئی ایندھن لاگت کو معاشی سرگرمیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہا ہے۔