سرائیل کے شامی ایئربیس پر حملے سے ترکیہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ

اسرائیل کی جانب سے شام کے شمال مغربی علاقے میں واقع ابو الظہور (Abu al-Duhur) ایئربیس پر فضائی حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی کشیدگی نے جنم لے لیا ہے، جس کے باعث اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان تناؤ میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔
اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ حملہ شام میں ممکنہ ترک فوجی موجودگی کو روکنے کے لیے کیا گیا، کیونکہ ان کے مطابق دمشق ایک سابقہ سکیورٹی انتظام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس ایئربیس پر ترک افواج کی تعیناتی کی اجازت دینے کے قریب تھا۔ دوسری جانب ترکیہ نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی اور حملے کو شام کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔
شامی حکومت نے بھی اسرائیلی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملے میں ایئربیس کے رن وے اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ادھر امریکا نے بھی اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی خصوصی ایلچی برائے شام ٹام بیرک نے حملے کو “غیر ضروری اشتعال انگیزی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اسرائیل، ترکیہ اور شام کے درمیان ایک مؤثر رابطہ اور ڈی کنفلیکشن (Deconfliction) نظام قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں کسی غیر ارادی فوجی تصادم سے بچا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد ترکیہ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور شام کی فوجی تنصیبات کی بحالی اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل شام میں کسی بھی ایسی عسکری پیش رفت کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے جو مستقبل میں اس کی فضائی برتری کو چیلنج کر سکے۔
موجودہ صورتحال نے خطے میں ایک نئے سفارتی اور عسکری بحران کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ اگرچہ اسرائیل اور ترکیہ دونوں براہِ راست جنگ سے گریز کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں، تاہم شام کی سرزمین پر بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں کسی بھی وقت حالات کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔